سکھر (ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ )
گزشتہ رات سکھر کے اسٹیڈیم روڈ پر مزدا گاڑی کی ٹکر سے کچلے جانے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کمسن حسن علی ولد ساجد علی میرانی کے ورثاء اور اہلِ علاقہ نے سکھر پریس کلب کے سامنے لاش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دے دیا۔احتجاج کی قیادت جاں بحق بچے کی والدہ راڻي، والد ساجد علی اور الطاف حسین ملاح نے کی، جبکہ دھرنے میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بچے کی لاش پریس کلب کے سامنے رکھ کر شدید احتجاج کیا اور واقعے میں ملوث مزدا ڈرائیور کی فوری گرفتاری اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔دھرنے کے باعث سکھر پریس کلب چوک کے اطراف شہر کی جانب آنے اور جانے والے تمام راستے بند ہوگئے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک معصوم بچے کو مبینہ طور پر مزدا گاڑی نے لوگوں کے سامنے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ واقعے کے بعد ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے تاحال ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی، جو متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی ہے۔اس موقع پر ورثاء نے مطالبہ کیا کہ حسن علی کی ہلاکت کے ذمہ دار مزدا ڈرائیور کو فوری طور پر گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کیا جائے، جبکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔احتجاج کے دوران سکھر سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او بھی موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کرکے ٹریفک کے لیے راستہ کھلوانے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین نے روڈ کھولنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مبینہ ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔مظاہرین نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار ڈرائیور کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

