تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے ساتھ کشیدگی اور مبینہ ڈیڈ لائن کے حوالے سے تمام افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں کسی بھی نام نہاد ’’60 روزہ مہلت‘‘ جیسی کوئی شق شامل نہیں تھی۔
تہران نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران کبھی بھی دباؤ، دھمکی یا کسی کی مسلط کردہ مدت کی بنیاد پر اپنی پالیسیاں طے نہیں کرتا، بلکہ تمام فیصلے صرف اور صرف ملکی مفادات اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور عمان کے توسط سے کشیدگی میں کمی لانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم بعض فریقوں کی جانب سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی مکروہ کوششوں کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ یادداشتِ مفاہمت میں دراصل 60 دن کی مدت صرف دو مخصوص تکنیکی امور پر بات چیت کے لیے رکھی گئی تھی، جن میں پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کا پُرامن جوہری پروگرام شامل تھا، اور اگر اس دوران کوئی نتیجہ نہ نکلتا تو اس مدت کو بڑھایا بھی جا سکتا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا کی جانب سے 18 جون کی اس مفاہمتی یادداشت کی چند ہفتوں کے اندر ہی سنگین اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی گئی، جس کی وجہ سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو سکا اور یوں اس 60 روزہ مدت کا باب بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ اس وقت سرکاری اداروں کی تمام تر توجہ ملکی انتظام و انصرام کو بہتر چلانے پر مرکوز ہے، جبکہ مسلح افواج بھی خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں ہونے والی ہر ایک نقل و حرکت پر پوری طرح چوکس اور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ قطر اور پاکستان کے ثالثی کردار کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں اپنی جگہ جاری ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنے پائلٹوں کے معاملے پر سمجھوتہ کرے گا، اور چار ایرانی پائلٹوں کے انجام سے متعلق قانونی و سفارتی پیروی پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
’’کسی 60 روزہ مہلت کے پابند نہیں، دباؤ یا دھمکیوں کے آگے کبھی سر نہیں جھکائیں گے‘‘ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام

