واشنگٹن: سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کے سابق معالج اور ممتاز کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر جوناتھن رینر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت اور جسمانی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کی ظاہری حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک نہیں ہیں۔
‘دی نیویارک ٹائمز’ میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی آرٹیکل میں ڈاکٹر جوناتھن رینر نے انکشاف کیا ہے کہ 80 سالہ صدر ٹرمپ کے ہاتھوں پر گہرے نیلے نشانات (زخم یا چوٹ کے آثار)، ٹانگوں میں سوجن اور پبلک میں اچانک سو جانے یا غنودگی کے لمحات نے ان کی صدارتی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈاکٹر رینر نے اپنے اس مضمون میں لکھا کہ "صدر کی کچھ غیر واضح وجوہات کی بنا پر ایڈوانسڈ میڈیکل امیجنگ بھی کروائی گئی ہے، جس کے بعد ایک بار پھر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا ہے کہ آیا ملک کا رہنما اندرونی طور پر صحت مند ہے یا نہیں۔” انہوں نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے دی جانے والی تسلیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی ایسے مواقع آئے ہیں جہاں صدر بالکل صحت مند نظر نہیں آئے۔
ماہر امراض قلب نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر کی فٹنس کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن قائم کرے، اور اس حوالے سے انہوں نے سات اہم طبی سوالات بھی فہرست میں شامل کیے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری میں بھی ڈاکٹر رینر صدر ٹرمپ کی فٹنس کی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی صحت پر 7 خطرناک سوالات: ڈک چینی کے سابق کارڈیالوجسٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی!

