واشنگٹن: امریکی سیاسی حلقوں سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ان کے استعفیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں اور خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی غرض سے یہ منصب چھوڑ رہی ہیں، جس کے فیصلے کو انہوں نے مکمل طور پر سراہا ہے۔
Our wonderful White House Press Secretary, and one of my most trusted aides, Karoline Leavitt, will be departing her role at the end of the month so she can spend more time with her beautiful young children and family, a decision I totally understand and respect! Karoline will… pic.twitter.com/i2SQvUsNT5
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) August 12, 2026
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کیرولین لیویٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد بھی ان کے "ٹاپ ایڈوائزر” (اعلیٰ ترین مشیر) اور ریپبلکن پارٹی کی ایک با اثر آواز کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ کیرولین نے 2018 سے لے کر 2024 کی تاریخی انتخابی مہم تک عدل، حریت اور آزادی کے لیے انتہائی شاندار انداز میں جنگ لڑی ہے اور وہ دفتر کی تاریخ کی بہترین ترجمانوں میں سے ایک رہی ہیں۔
کیرولین لیویٹ کا الوداعی بیان:
دوسری جانب کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس میں گزرے وقت کو "زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر” قرار دیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی۔ انہوں نے ویسٹ ونگ میں کام کرنے، اوول آفس کے دوروں اور دنیا بھر میں سفر کرنے کے تجربات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
Serving as the White House Press Secretary over the past year and a half has been the honor and adventure of a lifetime. I am incredibly grateful to President Trump for granting me so many extraordinary opportunities, such as working in the West Wing and spending countless hours… https://t.co/4jyW61DGGh pic.twitter.com/xny1yccuBn
— Karoline Leavitt (@karolineleavitt) August 12, 2026
سیاسی میدان میں اپنی جارحانہ پریس بریفنگز اور میڈیا کے ساتھ سخت مانی جانے والی لیویٹ نے جاتے جاتے ڈیموکریٹک پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کو ایک "انتہاپسند ڈیموکریٹک پارٹی” کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہیں، اور وہ اپنے اس ملک اور نظریات کی خاطر اپنی اس جنگ کو ایک نئے انداز میں جاری رکھیں گی۔

