پشاور(انورزیب خان سے)
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 56ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزرائ، معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے عوام سے براہ راست رابطے اور مسلسل دوروں کا آغاز قابل تحسین ہے، عوامی دوروں سے صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا براہ راست پتہ چلتا ہے،وزرا ء کے دوروں سے افسران کے عوام کے ساتھ رویے اور سروس ڈلیوری میں کوتاہیوں کا بھی علم ہوتا ہے، وزیراعلی کا صوبائی محکمہ خزانہ کی بہترین کارکردگی پر خراج تحسین، محدود وسائل کے باوجود معیشت کو بہترین انداز میں سنبھالا گیا ہے، 129 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں حکومت خیبرپختونخوا نے 150 ارب روپے حاصل کیے، رواں سال ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، کابینہ اراکین صرف اپنے کام پر توجہ دیں، حق و سچ، شفافیت اور کرپشن کے خلاف موقف پر آپ کے مخالفین بڑھیں گے، وزرا ء کو مخالفین کی باتوں کی بجائے اپنی کارکردگی اور صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کردہ 5300 ارب روپے کی اتنی بڑی کرپشن پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا، عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹا گیا، خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام عوام کو نظر آ رہے ہیں، ان کی رفتار مزید تیز ہونی چاہیے، عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں، عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں سے پوری قوم میں تشویش پائی جا رہی ہے، جب عمران خان کو اغوا کر کے ناحق قید کیا گیا تو ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے، عمران خان کی صحت جیل انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی غفلت کی وجہ سے خراب ہوئی ہے، گزشتہ روز عمران خان کی بہنوں اور وکلا سے ملاقات کا دن تھا لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تقریبا تین سال میں عمران خان نے صحت کو جواز بنا کر کبھی کوئی ریلیف نہیں مانگی، حکومت خیبرپختونخوا کا عمران خان سے ذاتی ڈاکٹرز، فیملی، وکلا اور دوستوں کی ملاقات اور رسائی دینے کا پرزور مطالبہ کرتی ہے، عمران خان کو اپنے ذاتی ڈاکٹرز، فیملی، وکلا اور دوستوں تک رسائی دینا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔


