واشنگٹن: ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک انتہائی خفیہ اور ڈرامائی سیکیورٹی آپریشن کے انکشاف نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اس خفیہ آپریشن کے تحت اعلیٰ امریکی حکام اور صحافیوں کو لاعلم رکھ کر اصل صدارتی طیارے ”ائیرفورس ون “ کو بطور چارہ یا DECOY استعمال کیا گیا ۔ جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور صدارتی مشیر اسٹیفن ملر سمیت سو سے زائد افراد کو اس حقیقت سے بے خبر اس طیارے میں سفر کرنا پڑا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، انقرہ میں نیٹو سمٹ کے اختتام پر امریکی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کو ایران کی طرف سے ایک انتہائی خطرناک اور مصدقہ سیکیورٹی خطرہ موصول ہوا تھا، جس میں صدارتی طیارے کو میزائل یا فضائی حملے کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں نے انتہائی چالاکی سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے صدارتی طیارے (ایئر فورس ون) سے نکال کر ایک دوسرے چھوٹے، غیر نشان زدہ فوجی طیارے میں منتقل کر دیا۔ اس دوران بڑی بلیو اینڈ وائٹ بوئنگ 747 (ایئر فورس ون) نے معمول کے مطابق برطانیہ کے لیے پرواز بھری۔
طیارے میں سوار سیکڑوں مسافروں، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio)، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent)، ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور اعلیٰ مشیر اسٹیفن ملر (Stephen Miller)، وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیانگ کے علاوہ متعدد فوجی حکام اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے، کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ اس پرواز میں موجود نہیں ہیں۔ سیکیورٹی ہدایات کے تحت مسافروں کو پرواز کے دوران کھڑکیوں کے بلائنڈز بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس اور سیکیورٹی حکام کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، بالخصوص اس تنقید کے ساتھ کہ اعلیٰ سرکاری شخصیات اور صحافیوں کو ممکنہ طور پر "انسانی ڈھال” یا خطرے کی زد میں چھوڑ کر ایک فریب پر مبنی پرواز کا حصہ بنایا گیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس پینترے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف سیکرٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کیا کیونکہ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ پرواز کے کون سے حصّے میں زیادہ خطرہ تھا، البتہ ان کا ماننا ہے کہ جس طیارے میں وہ خود سوار تھے، وہ زیادہ خطرے کی زد میں ہو سکتا ہے۔
مارکو روبیو، اسکاٹ بیسنٹ اور اسٹیفن ملرسمیت اہم شخصیات کو بغیر صدرٹرمپ کے ”ائیر فورس ون“ میں بھیجا گیا،نیویارک ٹائمز

