نیویارک:امریکا میں مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جہاں خوراک کی قیمتوں میں 29 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے معروف ماہرِ اقتصادیات اور نامور معاشی تجزیہ کار اسٹیو ہینکی (Steve Hanke) نے اس ہوشربا مہنگائی کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان دو نام نہاد جنگوں کا تحفہ ہے جن کا حکومت نے کبھی کوئی تخمینہ ہی نہیں لگایا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسٹیو ہینکی نے معاشی زوال کے اسباب پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ایک جان لیوا معاشی امتزاج ہے۔ ایک طرف ٹرمپ کی تجارتی اور ٹیرف جنگیں ہیں جو سپلائی چین کو تباہ کر رہی ہیں، تو دوسری طرف ٹرمپ کی ایران کے ساتھ چھیڑی گئی جنگ نے حالات کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ کسانوں اور ٹرک ڈرائیوروں دونوں کو اپنی روزمرہ کی نقل و حرکت کے لیے ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے، اور آج ڈیزل کا ’کریک اسپریڈ‘ (Crack Spread) تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔”
”واشنگٹن کے پاس کوئی آسان راستہ نہیں“
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ واشنگٹن اس مسئلے کا فوری حل کیوں تلاش نہیں کر رہا، تو ان کا دوٹوک مؤقف تھا کہ "ٹرمپ کے پاس اس وقت کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔ اور جب میں کہتا ہوں کہ کوئی آپشن نہیں، تو میرا مطلب ہے کہ ایسی کوئی حکمت عملی موجود ہی نہیں جس میں فائدے کے مقابلے میں اخراجات یا نقصانات کم ہوں۔ اس پورے معاملے میں تمام تر پتے ایران کے ہاتھ میں ہیں۔”
ہینکی کے مطابق، جنگ کو مزید بڑھنے سے روکنے میں امریکی کانگریس کا کوئی کردار نہیں تھا، بلکہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں نے واشنگٹن کو واضح طور پر انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایران نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر اس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو خطے کے پاور پلانٹس اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا جائے گا،
: اسٹیو ہینکی کا سب سے بڑا اور اہم نکتہ صرف عسکری سازوسامان کے نقصان کا نہیں بلکہ اعتماد کا خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار جب عالمی سطح پر کسی ملک سے بھروسہ اٹھ جائے تو وہ کریڈیبلٹی واپس نہیں آتی۔ چاہے میزائل انٹرسیپٹرز دوبارہ تعمیر کر لیے جائیں، لیکن اعتماد کی کمی ختم نہیں ہوگی۔
عالمی سروے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں امریکہ کا امیج تیزی سے گر رہا ہے جبکہ اس کے برعکس چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ ہینکی نے انتباہ کیا کہ "ایک بار اعتماد کھو دینے کے بعد آپ ایک بڑے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں، اور آنے والی اگلی انتظامیہ کے لیے بھی یہ اعتماد بحال کرنا ناممکن ہو گا”۔ یہ اس جنگ کی اصل قیمت ہے جو محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ عام شہریوں کی جیبوں اور عالمی ساکھ کو بھی نگل رہی ہے۔
امریکامیں مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، اشیائے خوراک کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ،

