تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کے دباؤ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے اور اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مزاحمت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے تاریخ اور نظریاتی اسباق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "سید الشہداء (امام حسین علیہ السلام) کے مکتب سے ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ذلت آمیز زندگی گزارنے سے کہیں بہتر ہے کہ عزت کی موت کو گلے لگایا جائے۔” انہوں نے زور دیا کہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے قربانی دینے سے ہی قوموں کی اصل قیمت اور حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ پسپائی اختیار کرنا اور اپنی آزادی، اجتماعی تشخص اور قومی ارادے کو ترک کر دینا کسی بھی قوم کی بنیادی جڑوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایران نے اب تک ہر دباؤ کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور وہ مستقبل میں بھی استقامت اور مزاحمت کے اس سفر پر پوری طرح کاربند رہے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کرتا رہے گا، تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے ایران کی تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کی جانب سے ہماری تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک اس آبنائے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز اب ہمارے لیے محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ عملاً میدانِ جنگ بن چکی ہے۔‘
ایران کی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی چھ شرائط کیا ہیں ؟
امریکا ایران اور اس کے اتحادیوں (لبنان، فلسطین، یمن اور عراق) کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں بند کرے۔ ایران پر عائد ناکہ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ خطے کے گردونواح سے امریکی افواج کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ ایران کو جنگی نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے ہرجانہ ادا کیا جائے۔ بیرون ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں اور ان کی رہائی عمل میں لائی جائے۔ اسلام آباد مفاہمت نامے کی امریکی خلاف ورزیوں کا ازالہ کیا جائے۔

