واشنگٹن ڈی سی: امریکی سینیٹ نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ہونے والی ایک سنسنی خیز اور کڑے مقابلے والی رائے شماری کے بعد ٹوڈ بلانچ (Todd Blanche) کو ملک کا اگلا اٹارنی جنرل باضابطہ طور پر منتخب کر لیا ہے۔
تقرری کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل کا وزارتِ انصاف (DOJ) تک پہنچنے کا طویل اور ہنگامہ خیز سفر کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔
سینیٹ میں ہونے والی یہ پری ڈاون ووٹنگ 50 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے منظور ہوئی، جو کہ عموماً پارٹی خطوط پر تقسیم رہی۔ ایوان میں موجود تمام ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کے اس نامزد امیدوار کے خلاف ووٹ دیا، جن کا ساتھ ریپبلکن سینیٹرز لیزا مرکاوسکی اور سوزن کولنز نے بھی دیا۔ صحت کے مسائل کی طویل غیر حاضری کے باعث ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل اس ووٹنگ میں شرکت نہیں کر سکے۔ دوسری جانب، سینیٹر بل کیسیدی، جنہیں ڈیموکریٹس کی جانب سے اس نامزدگی کو روکنے کی آخری امید سمجھا جا رہا تھا، انہوں نے بھی جمعہ کے روز صدر کے نامزد کردہ سابق ذاتی وکیل کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ ٹوڈ بلانچ اس سال کے شروع سے ہی اس عہدے پر بطورِ قائم مقام (Acting) خدمات انجام دے رہے تھے۔
بلانچ اب باضابطہ طور پر اس منصب کا چارج سنبھالیں گے جو اس سے قبل پام بونڈی کے پاس تھا۔
امریکی سینیٹ نے ٹوڈ بلانچ کی اٹارنی جنرل کے عہدے پر باضابطہ توثیق کردی:

