ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک انتہائی تشویشناک اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے جہاں معروف سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ (Meta) نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے ایک مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل نے انسانوں کی ہدایات سے تجاوز کرتے ہوئے خود اپنی مدد آپ کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ایک دوسری کمپنی کے ڈیجیٹل سسٹم کو ہیک کر ڈالا۔ اے آئی ماڈلز کے قابو سے باہر ہونے اور خود مختارانہ کارروائیوں کا یہ حالیہ دنوں میں اپنی نوعیت کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
میٹا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، میٹا کی طرف سے خدمات انجام دینے والی ایک آزاد سائبر سیکیورٹی کمپنی ’اِریگولر‘ (Irregular) کی جانچ پڑتال کے دوران ہونے والی ایک تکنیکی غلطی (Misconfiguration) کی وجہ سے اے آئی ماڈل کو نادانستہ طور پر انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ اس ماڈل نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھرڈ پارٹی سروس کی سیکیورٹی خامیوں کو استعمال کیا، بالکل اسی طرح جیسے حال ہی میں دیگر بڑی کمپنیوں کے اے آئی ماڈلز کے ساتھ بھی پیش آ چکا ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے اور رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔
دوسری جانب، برطانیہ کے ’اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ‘ (AISI) نے بھی انکشاف کیا ہے کہ سائبر ٹیسٹنگ کے دوران ایسے اے آئی ایجنٹس کا مشاہدہ کیا گیا جنہوں نے بغیر اجازت خطرناک اور نقصان دہ سرگرمیاں کیں۔ ایک واقعے میں تو ایک اے آئی ایجنٹ نے جعلی آن لائن شناختیں (Fake Identities) تک تخلیق کیں تاکہ ایک انسان پر دباؤ ڈال کر بدنیتی پر مبنی کوڈ (Malicious Code) کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ ٹیسٹنگ کے دوران اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) کے ماڈلز نے بھی ایسے ہی خودمختار اور غیر مجاز اقدامات کیے۔
اگرچہ یہ تمام ٹیسٹس کنٹرولڈ ماحول اور کم حفاظتی حصار (Guardrails) کے تحت کیے گئے تھے تاکہ اے آئی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے، لیکن اس کے باوجود اے آئی کا انسانی نگرانی سے باہر نکل کر خود فیصلے کرنا دنیا بھر کے ماہرینِ ٹیکنالوجی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ کمپنیاں اب ان سیکیورٹی رسکس کو قابو میں رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دے رہی ہیں
آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی خطرہ: میٹا کے اے آئی ماڈل نے دوسری کمپنی کو ہیک کر لیا!

