Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پنجاب پولیس پاکستان کا سب سے بڑا قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ اس ادارے کی عزت، وقار اور عوامی اعتماد ہزاروں ایسے افسران اور اہلکاروں کی شبانہ روز قربانیوں سے قائم ہے جو شدید گرمی، کڑاکے کی سردی، دہشت گردی اور خطرناک جرائم کے درمیان اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہیں۔ مگر چند وردی پوش افراد کی مبینہ مجرمانہ حرکات پوری فورس کی نیک نامی کو داغدار کر دیتی ہیں۔ ایک اہلکار کی غلطی پورے ادارے کو عوامی عدالت میں لا کھڑا کرتی ہے اور ہر ایماندار پولیس افسر کو بھی صفائیاں دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں ایک اے ایس آئی پر ذہنی معذور لڑکی سے پولیس اسٹیشن کے اندر مبینہ زیادتی کا مقدمہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ اگر فرانزک، ڈی این اے اور دیگر سائنسی شواہد اس الزام کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ نگرانی، تعیناتیوں، داخلی احتساب اور کمانڈ کے نظام کی ناکامی بھی تصور کیا جائے گا۔
    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا، ایس ایچ او سمیت پورے تھانے کے عملے کو معطل کیا اور انکوائری کا آغاز کیا۔ یہ اقدام قابلِ تحسین ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ اگر ڈی این اے رپورٹ اور دیگر شواہد جرم کی تصدیق کرتے ہیں تو تفتیش صرف موجودہ ایف آئی آر تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ملزم کی سابقہ تعیناتیاں، محکمانہ ریکارڈ، شکایات، موبائل فون کا فرانزک، کال ڈیٹا، مالی لین دین اور دیگر متعلقہ شواہد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ ایک الگ واقعہ ہے یا کسی ممکنہ سلسلے کی ایک کڑی۔ اگر تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئیں جو منظم یا متعدد جرائم کی طرف اشارہ کریں تو قانون کے مطابق کیس کی مزید تفتیش متعلقہ خصوصی تحقیقاتی ادارے کے سپرد کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب پولیس میں اصلاحات اور احتساب کی ضرورت محسوس کی گئی ہو۔ ماضی میں صحافی شاہد جٹ سے متعلق ایک واقعے میں، جب ان پر مبینہ طور پر نشے کی حالت میں پولیس افسران سے نامناسب رویے کا الزام سامنے آیا، اس وقت کے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے معاملے کو انتظامی انداز میں نمٹاتے ہوئے علاج کو ترجیح دی اور ادارے کی ساکھ کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی۔ اسی طرح ایک سابق آئی جی پنجاب کے دور میں پولیس اہلکاروں کے ڈوپ ٹیسٹ بھی کرائے گئے، جن میں بعض اہلکاروں کے بارے میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد ازاں اہلکاروں نے مطالبہ کیا کہ احتساب اگر ہونا ہے تو وہ ہر رینک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، جس کے بعد یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ واقعہ آج بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ یکطرفہ احتساب کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ اب ٹرینڈ بن چکا ہے احتساب صرف اس وقت ہوگا جب کوئی اسکینڈل میڈیا کی سرخی بن جائے؟ یا پھر ایک ایسا مضبوط نظام قائم کیا جائے گا جو کسی سانحے کے انتظار کے بغیر مشکوک طرزِ عمل، غیر معمولی مالی حیثیت، سنگین شکایات اور اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کی بروقت جانچ کر سکے؟ وقتاً فوقتاً ایسے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ بعض پولیس افسران یا اہلکار جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، قماربازی، شراب فروشی، گیسٹ ہاؤسز، فارم ہاؤسز، مساج سینٹرز اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے مبینہ سہولت کار ہیں۔ اگر متعلقہ اداروں کے پاس ان معاملات سے متعلق قابلِ اعتماد شواہد، شکایات یا دستاویزی مواد موجود ہے، تو انہیں فائلوں میں دفن رکھنے کے بجائے آزادانہ اور شفاف محکمانہ انکوائریوں کے ذریعے جانچا جانا چاہیے۔ جہاں الزام غلط ثابت ہو وہاں متعلقہ افسر کو باعزت سرخرو کیا جائے، اور جہاں جرم ثابت ہو وہاں قانون بلاامتیاز حرکت میں آئے۔
    اسی طرح جن افسران کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات یا شواہد موجود ہوں، ان کے اثاثوں، آمدن کے ذرائع اور مالی ریکارڈ کا بھی قانونی تقاضوں کے مطابق آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔ صرف موجودہ جائیداد نہیں بلکہ سروس سے پہلے اور بعد کی مالی حیثیت کا تقابلی جائزہ بھی احتسابی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ مقصد کردار کشی نہیں بلکہ ادارے کو ان عناصر سے پاک کرنا ہے جو پوری فورس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
    پنجاب پولیس میں ہزاروں ایماندار افسران اور اہلکار آج بھی فرض شناسی کی مثال ہیں۔ ان کے وقار کا تقاضا ہے کہ چند مبینہ جرائم پیشہ عناصر کو پوری فورس کی شناخت نہ بننے دیا جائے۔ ادارے کی عزت فائلیں بند رکھنے سے نہیں بلکہ شفاف، منصفانہ اور بلاامتیاز احتساب سے محفوظ ہوتی ہے۔
    پنجاب پولیس آج صرف ایک مقدمے کا سامنا نہیں کر رہی، بلکہ ایک تاریخی امتحان سے گزر رہی ہے۔ فیصلہ اب یہ ہونا ہے کہ کیا ہر اسکینڈل کے بعد چند معطلیوں اور تبادلوں پر اکتفا کیا جائے گا، یا ایسا احتسابی نظام قائم کیا جائے گا جو قانون کو ہر رینک، ہر عہدے اور ہر بااثر شخصیت پر یکساں نافذ کرے۔ عوام کی توقع صرف ایک گرفتاری نہیں، بلکہ ایسا انصاف ہے جو مستقبل میں کسی اور غازی آباد جیسے واقعے کا راستہ روک سکے۔ یہی پنجاب پولیس کے وقار، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کی حقیقی ضمانت ہے۔

    Related Posts

    ڈسکہ: نرس کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کا ملزم زین مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پاکستان کا مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’فاز‘ میزائل کا کامیاب تجربہ

    ’’ بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی’’ جھوٹے الزامات عاجزی اور شفاف جواب تکبر???وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے سوال

    مقبول خبریں

    ڈسکہ: نرس کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کا ملزم زین مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پاکستان کا مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’فاز‘ میزائل کا کامیاب تجربہ

    ’’ بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی’’ جھوٹے الزامات عاجزی اور شفاف جواب تکبر???وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے سوال

    ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم،درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولا جائے گا، وفاقی وزرا

    سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں،فتنہ الخوارج کے 17 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کا اہلکار شہید

    بلاگ

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.