بیجنگ:چین نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کے پہلے باقاعدہ ’روبوٹ اسکول‘ کا افتتاح کر دیا ہے، جہاں ہیومینائڈ(انسانی شکل کے) روبوٹس کو باقاعدہ تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے۔ اس منفرد تعلیمی ادارے میں پہلے بیچ کے طور پر 30 روبوٹس کو داخلہ دے دیا گیا ہے۔
China launches robot school.
The facility is training an initial cohort of 30 ‘students’ for roles across the industrial, service, security and entertainment sectors. The robo-pupils undergo physical assessments, specialised coursework in their fields — which can include… pic.twitter.com/yKSpAWNZ7o
— AFP News Agency (@AFP) August 7, 2026
ہانگجو میں قائم اس جدید فیسلٹی میں روبوٹ "طلبہ” کو فزیکل چیک اپ، خصوصی نصاب (کورس ورک) اور سخت مراحل سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد وہ فائنل اسکلز امتحان پاس کرکے باقاعدہ اسناد (سرٹیفیکیٹس) حاصل کرتے ہیں۔
اسکول میں مختلف ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں جن میں صنعتی کام، سیکیورٹی، کسٹمر سروس، تفریح، اور یہاں تک کہ میڈیسن اور آرٹس کی تعلیم بھی شامل ہے۔ امتحان پاس کرنے کے بعد ان روبوٹس کو براہِ راست حقیقی ملازمتوں کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
یہ اقدام محض کوئی نمائشی شو نہیں ہے بلکہ چین کی جانب سے ہیومینائڈ روبوٹس کو ڈیمو ہالز سے نکال کر عملی افرادی قوت کا حصہ بنانے کی ایک بڑی دوڑ کا حصہ ہے۔ اس اسکول کا مقصد تربیت کے عمل کو معیاری بنانا ہے تاکہ ایک ہی سافٹ ویئر اور مہارت کو مختلف مشینوں میں آسانی سے کاپی کیا جا سکے، جس سے روبوٹس کی تعیناتی کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔
مصنوعی ذہانت (Embodied AI) پر پہلے ہی بھرپور زور دینے والے ملک چین کے لیے روبوٹس کو نوکری کرنے کے قابل بنانا اگلا منطقی قدم ہے، جو مستقبل کی لیبر مارکیٹ کا نقشہ بدل کر رکھ دے گا۔

