بالی وڈ کی کہنہ مشق اور معروف اداکارہ تبو (جن کا اصل نام تبسم جمال ہاشمی ہے) نے ڈیجیٹل دنیا میں اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے سخت قانونی قدم اٹھاتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست دائر کر دی ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق اداکارہ نے یہ قدم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنے نام، تصویر، آواز اور شخصیت سے جڑی دیگر خصوصیات کے مبینہ غیر مجاز اور تجارتی استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا ہے۔
شخصی حقوق (پبلسٹی رائٹس) کیا ہیں؟ شخصیت کے ان قانونی حقوق کا مطلب ہے کہ ہر معروف شخصیت کو اپنی شناخت، چہرے، انداز یا شہرت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا خصوصی حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے تحت کوئی بھی شخص یا ادارہ بغیر اجازت کسی فنکار کی تصویر، نام یا آواز کو اشتہاری یا مالی فائدے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا، جو کہ شناخت کے غلط استعمال کے خلاف ایک موثر ڈھال ہے۔
اس مقدمے کی سماعت جسٹس جیوتی سنگھ کی عدالت میں ہوئی۔ معروف قانونی ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے مطابق سماعت کے دوران تبو کی وکیل سواتھی سوکمار کو عدالت کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مدعا علیہان (فریقِ دوم) کی ایک نئی اور درست فہرست عدالت میں جمع کروائیں کیونکہ سابقہ فہرست میں بعض افراد کی مکمل تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ اس کیس کی اگلی سماعت اب کل یعنی 6 اگست کو ہوگی۔
واضح رہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ڈیجیٹل جعل سازی میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد شوبز اور سیاسی شخصیات اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے لگی ہیں۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ کرکٹر ابھیشیک شرما، یووراج سنگھ، سیاستدان ششی تھرور اور ساؤتھ انڈین سپراسٹار و نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان جیسے نامور افراد کے بھی ایسے ہی حقوق کے تحفظ سے متعلق احکامات جاری کر چکی ہے۔

