واشنگٹن: امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک جج نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا جائنٹ ’میٹا‘ (Meta) کو بچوں کو لاحق خطرات سے متعلق عوام کو مناسب طور پر آگاہ نہ کرنے پر مزید 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بچوں کی حفاظت کے قوانین کی خلاف ورزی پر میٹا کے خلاف کسی بھی عدالت کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اور تاریخی فیصلہ ہے۔
جج برائن بیڈشائیڈ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ سوشل میڈیا کمپنی ایک ’عوامی نقصان‘ (Public Nuisance) کا سبب بنی ہے، اور اس کا موازنہ فضائی آلودگی سے کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جرمانے کی یہ بھاری رقم ایک ایسے خصوصی فنڈ میں جمع کی جائے گی جو مستقبل میں بچوں کو آن لائن دنیا میں پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔
یہ حالیہ فیصلہ اس سے قبل عائد کیے گئے 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے جرمانے کے علاوہ ہے۔ اس طرح اس مقدمے میں میٹا پر عائد ہونے والا مجموعی جرمانہ بڑھ کر 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔ جج نے میٹا کا موازنہ ایک فیکٹری سے کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اشتہارات اور مواد اس کی مصنوعات ہیں، جبکہ بچوں کو پہنچنے والا نفسیاتی نقصان اور جنسی استحصال اس آلودگی کی مانند ہے جسے روکنا لازمی ہے۔
دوسری جانب، انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ اور تھریڈز کی مالک کمپنی میٹا کے ترجمان نے عدالتی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے سے بالکل متفق نہیں ہیں اور اس کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارمز کو نوجوانوں اور تمام صارفین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے انتہائی سخت محنت کرتی ہے اور اس ضمن میں ہمیشہ شفاف رہی ہے۔ یاد رہے کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے پر کسی بھی امریکی ریاست کی جانب سے میٹا کے خلاف مقدمہ جیتنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور اہم ترین واقعہ ہے۔

