بیجنگ+لندن: غزہ کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنانے والے ملک اسپین کو مبینہ طور پر سبق سکھانے کے لیے پردے کے پیچھے خطرناک کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ بیجنگ کے انٹیلی جنس حلقوں میں یہ تھیوری گردش کر رہی ہے کہ اسپین کی سرحد پر ہونے والے حالیہ تارکین وطن کا ہجوم اکٹھا ہونے کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ کا ہاتھ تھا، تاکہ میڈرڈ کو غزہ پالیسی پر اور صدر ٹرمپ کی مخالفت کی سزا دی جا سکے۔
ایک مصری تجزیہ کا ر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مراکش انٹیلی جنس کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غریب افراد کو پیسے دے کر سرحد کی باڑ توڑنے کے لیے بھیجا۔
ان دعووں کے ساتھ ہی سفارتی محاذ پر بھی اسپین کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا دکھائی دیا۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر نے برملا کہا کہ اسپین کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ افریقہ میں "نوآبادیاتی انکلیوز” (Ceuta and Melilla) کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب، امریکہ میں بھی اپریل کے دوران ایک رپورٹ میں ان شہروں کو مراکش کی سرزمین قرار دیا گیا، جبکہ چین نے بھی مراکش میں بیٹری پلانٹس اور بحیرہ روم کی سب سے بڑی بندرگاہ ’طنجہ میڈ‘ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
ان تمام قیاس آرائیوں کے برعکس جو حقائق دستاویزی شکل میں موجود ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ اسپین کی سول گارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ مراکش کے انٹیلی جنس ایجنٹس اس ہجوم کے اندر موجود تھے جو سرحد کا سروے کر رہے تھے۔ جبکہ مراکشی پولیس نے نوجوانوں کےسرحد پار کرنے میں مکمل سہولت کاری کی ۔اس واقعے سے صرف چند دن قبل اسپین کے وزیراعظم سانچیز نے الجزائر کا دورہ کیا تھا، اور مراکش 2021 میں بھی بالکل ایسا ہی حربہ آزما چکا ہے، جس کے نتیجے میں سمندر میں ڈوب کر 57 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
اس تمام صورتحال میں جب اسپین نے اپنے اتحادیوں کی تلاش شروع کی تو اسے معلوم ہوا کہ واشنگتن، یروشلم اور بیجنگ سبھی خاموشی سے ایک ہی سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا افریقہ میں واقع یہ شہر واقعی اسپین کا حصہ رہنے چاہیے یا نہیں!
اسپین کی سرحد پر حالیہ ہنگاموں کے پیچھے کیا موساد اور مراکش کا خفیہ کھیل تھا؟

