بینکاک: تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں واقع ایک اسکول میں فائرنگ کا انتہائی لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نویں جماعت کے ایک کم عمر طالب علم کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم8افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس ہولناک واقعے نے ایک بار پھر ملک بھر میں خوف و ہراس اور اسلحے کی آسان دستیابی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
🔴 DEVELOPING: Video shows the suspected gunman running from the scene after the school shooting in Thailand. pic.twitter.com/ETVC5GjlFe
— Planet Report HQ (@PlanetReportHQ) August 7, 2026
پولیس حکام کے مطابق نونتھابوری میں واقع نامور ’ڈیبسرین اسکول‘ (Debsirin School) میں پیش آنے والے اس واقعے کا مبینہ حملہ آور اسی اسکول کا 14 سالہ طالب علم تھا۔ ایک عینی شاہد نے انکشاف کیا کہ حملہ آور پستول ہاتھ میں لیے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں دندناتا پھرتا رہا اور اس نے ایک استاد کو بھی گولی کا نشانہ بنایا۔ مبینہ حملہ آور بعد میں جائے وقوعہ پر ہی مردہ حالت میں پایا گیا۔اس سے قبل مبینہ حملہ آور اپنے دادا دادی کو بھی گولی مار چکا تھا۔
🇹🇭 A school shooting in Bang Kruai, Thailand, has left 7 people dead, including three teachers, three students and the suspected gunman.
At least 20 others were injured.
Follow: @europa pic.twitter.com/sb0p5xVY1q
— Europa.com (@europa) August 7, 2026
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، جہاں اسکول کے عملے اور معصوم طلبہ کو جان بچانے کے لیے خوف کے عالم میں بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔



تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چارنویراکل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔


