واشنگٹن ڈی سی +تہران :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکا ایران کو ’بہت بری طرح نشانہ بنائے گا‘، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ آج یا کل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز پر پابندی مزید سخت ہوجائے گی جس کے دنیا کواثرات بھگتنے ہوں گے۔
جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم انھیں بڑی شدت سے نشانہ بنائیں گے اور بالآخر وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ اب ہم مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس تنازع کا خاتمہ نظر نہیں آ رہا اور دونوں جانب سے ایک بار پھر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اے ایف پی نے اس سے قبل اپنے ایک تجزیے میں لکھا تھا کہ ’پانچ ماہ کی جنگ کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش نہیں کر سکے اور ان کے پاس دستیاب اختیارات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فضائی حملے اب تک ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ نے امریکی صدر کو ایک پیچیدہ مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔‘
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکا کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ’آبنائے ہرمز پر لگائی گئی پابندی مزید سخت ہو جائے گی‘ اور اس کے نتیجے میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’ایسی صورتِ حال کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور امریکی ووٹروں تک پہنچیں گے۔‘
بی بی سی فارسی کی جانب سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا اور سکیورٹی اداروں سے قریبی ذرائع ابلاغ نے ایک گمنام سینئر سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکا کے ممکنہ حملوں کے جواب کے لیے ایک ’وسیع منصوبہ‘ تیار کر رکھا ہے۔
اس اہلکار نے ’امریکی ذرائع ابلاغ میں ایران کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متعلق خبروں کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے حملے کیے گئے تو ایران کے ردعمل میں اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے اور خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘
امریکا کی تہران پر ”بڑے حملے“ کی تیاریاں، اب آبنائے ہرمز پر پابندیاں مزید سخت ہوں گی، ایران

