واشنگٹن:عالمی سطح پر توانائی کے جاری بحران، مشرق وسطیٰ کی سنگین کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں خلل کے باعث امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں، جہاں قومی اوسط نرخ تاریخ میں پہلی بار بڑھ کر 6.27 ڈالر فی گیلن کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
صرف ایک ہفتہ قبل امریکی قومی اوسط تقریباً 5.90 ڈالر فی گیلن تھی، تاہم بین الاقوامی عوامل کی وجہ سے اس میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان اسباب میں مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل کے مسائل، روسی ریفائنریز پر یوکرینی حملے، امریکا میں اسسٹلیٹ (distillate) کے کم ہوتے ہوئے ذخائر اور خام تیل کی قیمتوں کا مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا شامل ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ۔ جب ڈیزل اتنا مہنگا ہو جاتا ہے، تو اس کا شدید معاشی بوجھ خوراک، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کی مہنگائی کی شکل میں پوری مارکیٹ پر فوری طور پر منتقل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف امریکا کے معروف اور مقبول ترین ہول سیل گودام کلب "کوسٹکو” (Costco) میں ایک بار پھر وبا کے دنوں کی طرح اشیاء کی خریداری پر باقاعدہ کوٹہ (Rationing) اور پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس نے عام امریکی شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب صارفین کو گاڑیوں کا انجن آئل (Motor Oil) دو یونٹس فی ہفتہ کی حد تک محدود اور تقریباً دگنی قیمت پر مل رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، کوسٹکو کا اپنا مشہور برانڈ "کرکلینڈ” (Kirkland) جو کہ فائیو کوارٹ کے دو پیک پر مشتمل ہوتا ہے، اس کی قیمت ماضی میں تقریباً 30 ڈالر تھی جو اب بڑھ کر دگنی یعنی 57.99 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اب ہر ممبر شپ پر ایک ٹرانزیکشن کی حد مقرر کی گئی ہے اور سات دن میں صرف دو یونٹس خریدنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ مشہور زمانہ "موبل ون” (Mobil 1) آئل کی خریداری بھی فی رکن پانچ یونٹس تک محدود کر دی گئی ہے۔ اس پوری صورتحال پر کوسٹکو انتظامیہ کی طرف سے فی الحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
اس اچانک بحران کی اصل جڑیں آئل ریفائنریز کے کام کرنے کے طریقہ کار میں پوشیدہ ہیں۔ مصنوعی موٹر آئل (Synthetic Motor Oil) کا بنیادی جزو "بیس آئل” (Base Oil) ہوتا ہے، اور چونکہ کچی تیل کی مارکیٹ سخت دباؤ کا شکار ہے اور فیول کے منافع کے مارجن بہت زیادہ ہیں، اس لیے ریفائنریز خام تیل کے ہر بیرل کو موٹر آئل کے بجائے زیادہ سے زیادہ پٹرول اور ڈیزل بنانے میں استعمال کر رہی ہیں۔ پیر کے روز برینٹ آئل (Brent) کی قیمت تجارتی سیشن کے دوران 109 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھی اور یہ ہفتے بھر میں 9 فیصد اضافے کے ساتھ 105.68 ڈالر پر بند ہوا۔ اس وقت امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پٹرول نے یومِ مزدور (Labor Day) کے موقع پر قیمتوں کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ اور کشیدگی کے اثرات اب عام امریکیوں کی زندگیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ عراق سے آنے والے ڈرونز کا سعودی پائپ لائن پر حملہ کرنا، حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحل پر قبضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول براہِ راست عالمی منڈی کو متاثر کر رہا ہے، اور اس کا شاخسانہ اب امریکی گودام کلبوں میں خریداری کے ضابطوں کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔ کوسٹکو میں اس طرح اشیاء کی راشننگ دیکھا جانا وہ منظر ہے جو امریکیوں نے کوریا یا کرونا وبا کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا تھا، اور اس صورتحال نے ایک بار پھر شہریوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں نے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے: فی گیلن نرخ 6.27 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر ، راشننگ شروع، عوام خوفزدہ

