تلہ گنگ (رانا مبشر رضا بیورو چیف سے )
تاریخی قبرستان "میاں غلام محمد” (موضع بھلومار داخلی کوٹیڑہ) میں قدرتی نکاسِ آب کی بندش اور ناجائز تعمیرات کے ذریعے قبور کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر مقامی آبادی اور دینی حلقوں میں شدید تشویش لہر دوڑ گئی ہے۔ مدعی محمد عزیر احمد ملک کی جانب سے دائر کردہ دعوے پر کارروائی کرتے ہوئے سول جج فرسٹ کلاس تلہ گنگ، محمد آصف اقبال نے مدعا علیہ قمر الدین کو قبرستان کی زمین پر کسی بھی قسم کی تعمیرات سے فوری طور پر روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔
دینی و مذہبی علماء کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسلام میں مسلمانوں کی قبور کا احترام اور ان کی حفاظت ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں قبروں کی بے حرمتی، ان پر پاؤں رکھنا، یا پانی کا نکاس بند کر کے انہیں منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار کرنا سخت ناپسندیدہ اور گناہِ عظیم ہے۔ مزید برآں، وقف شدہ یا عام استعمال کے لیے مختص زمین (بالخصوص قبرستان) پر ناجائز قبضہ کرنا یا اس کی نوعیت تبدیل کرنا اسلام میں شدید ترین گناہ (غصب) شمار ہوتا ہے، جس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ : عرضی دعویٰ کے مطابق 1 کنال رقبے پر محیط یہ قبرستان 1968ء سے وقف ہے۔ مدعا علیہ نے جانبِ جنوب و مشرق تعمیرات کر کے بارش کے پانی کا قدرتی راستہ روک دیا، جس کی وجہ سے حالیہ مون سون بارشوں میں قبور کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سول کورٹ نے ابتدائی دلائل کی روشنی میں حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مدعا علیہ کو 14 ستمبر 2026ء کے لیے طلب کر لیا ہے۔

