سانگھڑ (اشفاق سلہری سے)
حکومتِ سندھ کے محکمہ خوراک نے ضلع سانگھڑ میں گندم کے سرکاری ذخائر میں مبینہ خردبرد، کمی اور نقصان کے سنگین معاملے پر فوڈ انسپکٹر (بی ایس-12) محمد عباس میمن کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔30 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے سیکریٹری فوڈ اینڈ اتھارٹی سندھ غلام عباس نائچ کے دستخط شدہ آرڈر کے مطابق محمد عباس میمن پر ضلع سانگھڑ کے PRC نواب آباد، کھپرو کمپلیکس، پرانا کھپرو اور سانگھڑ گوداموں میں مجموعی طور پر 6,291.890 میٹرک ٹن گندم کی کمی، خردبرد اور نقصان کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔سرکاری آرڈر کے مطابق مجموعی سرکاری نقصان کی اصل رقم 79 کروڑ 11 لاکھ 10 ہزار 273 روپے جبکہ مارک اپ 26 کروڑ 45 لاکھ 20 ہزار 535 روپے بنتا ہے، یوں مجموعی واجب الادا رقم 1 ارب 5 کروڑ 56 لاکھ 30 ہزار 808 روپے مقرر کی گئی ہے۔
آرڈر میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران کھپرو سے حیدرآباد اور کوٹری کی جانب 12 ٹرک سرکاری گندم کی غیر قانونی منتقلی اور نجی افراد کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری گندم کی چوری و غیر قانونی فروخت کے الزامات بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ گوداموں میں موجود گندم کو خراب، گھُن زدہ، مٹی سے آلودہ اور ناقابلِ استعمال قرار دیا گیا۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق محمد عباس میمن کو متعدد شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ حتمی شوکاز نوٹس اور ذاتی سماعت کے باوجود وہ تسلی بخش جواب پیش نہ کر سکے اور نہ ہی مقررہ تاریخ پر ذاتی سماعت میں پیش ہوئے، جس کے بعد سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کے تحت انہیں کی بڑی سزا دی گئی۔
محکمہ خوراک نے ڈائریکٹر فوڈ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری نقصان کی وصولی کے لیے کارروائی کی جائے، جبکہ معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کو بھی فوجداری تحقیقات کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ 30 روز کے اندر سرکاری رقم کی وصولی کے لیے متعلقہ عدالت میں سول سوٹ دائر کیا جائے۔

