اولاد والدین کی جسمانی، دماغی اور سماجی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لاتی ہے، مگر ہر ایک مساوی طریقے سے متاثر نہیں ہوتا۔
درحقیقت ایک نئی تحقیق میں دریافت ہوا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی صحت اولاد کی آمد سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
جرنل آف فیملی اسٹڈیز میں شائع تحقیق میں اولاد کی آمد کے بعد ماں اور باپ پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ ماں یا باپ بننے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ صحت سے جڑے رویوں جیسے جسمانی ورزش اور تمباکو نوشی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ باپ بننے سے قبل یا بعد میں مردوں کی صحت میں کوئی خاص تبدیلیاں نہیں آتیں۔
اس کے مقابلے میں خواتین میں یہ معاملہ مختلف ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر اور بچوں کی تعداد خواتین کی صحت میں آنے والی تبدیلیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کا ایک بچہ ہے یا ان کے بچے لڑکپن کی عمر میں پہنچ گئے ہیں تو ڈپریشن کی زیادہ علامات کا سامنا ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں 2 یا اس سے زائد چھوٹے بچوں کی ماؤں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
صحت سے جڑے رویوں کے حوالے سے تحقیق میں دریافت ہوا کہ سب سے نمایاں فرق جسمانی سرگرمیوں پر پڑتا ہے اور مردوں کے مقابلے میں خواتین ورزش سے زیادہ دور ہوتی ہیں۔
محققین کے مطابق چھوٹے بچوں کا خیال رکھنے والی صرف 16 فیصد مائیں ہی ورزش کو معمول بناتی ہیں جبکہ بچے ہوں یا نہ ہوں، مردوں میں یہ شرح لگ بھگ یکساں ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ماں بننے کے باعث خواتین کے پاس اپنا خیال رکھنے کا وقت نہیں ہوتا جس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

