کابل:افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ حج و اوقاف نے بعض شادی اور منگنی کی روایتی رسومات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’گناہ‘ اور ’اسلامی قوانین کے منافی‘ قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے جمعے کے خطبات کے لیے خطیبوں کو خصوصی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
گذشتہ 23 جولائی کو طالبان کی وزارت نے ’شادی کی تقریبات اور دیگر جشنوں میں گناہ آمیز اعمال اور اسلامی شریعت کے خلاف رسوم سے اجتناب‘ کے عنوان سے 10 صفحات پر مشتمل ایک جامع دستاویز جاری کی ہے ۔اس دستاویز میں افغان شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام خوشی کی تقریبات خالصتاً ’اسلامی تعلیمات‘ کے مطابق منعقد کریں۔
منگنی، مہندی اور انگوٹھیوں کے تبادلے پر پابندی:
نئی ہدایات کے مطابق منگنی کے دوران انگوٹھیوں کے تبادلے یا مہندی لگانے کے عمل کو بھی غلط اور شرعاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز میں وضاحت کی گئی ہے کہ عوامی طور پر لڑکا لڑکی کی انگلی میں انگوٹھی پہناتا ہے یا ایک دوسرے کی ہتھیلی پر مہندی لگاتے ہیں، جو کہ مذہبی اعتبار سے جائز نہیں ہے
میک اپ، لباس اور آتش بازی پر پابندی:
دستاویز میں دلہن کی جانب سے کاسمیٹکس کے استعمال، بھنویں بنانے، چہرے کے بال صاف کرنے اور انتہائی تنگ و باریک لباس پہننے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور اسے دھوکے کی ایک شکل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت پرفیوم یا عطر لگانے کی بھی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، جبکہ مردوں کے لیے سرمہ یا آفٹرشیو کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔
خوشی کے مواقع پر آتش بازی اور پٹاخے چلانے کو ’خطرناک ترین اعمال‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے مسلمانوں یا پڑوسیوں کو اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے، جو کہ ممنوع عمل ہے۔ ان تمام پابندیوں کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ کی تقریبات میں ہر قسم کی موسیقی اور مرد و خواتین کے مخلوط رقص پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔

