فی الحال آسام کے 7 اضلاع شیو ساگر، چرائی دیو، گولا گھاٹ، جورہاٹ، ناگاؤں، سونیت پور اور کامروپ میٹروپولیٹن سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں۔
شمال مشرقی ہندوستان کی ریاستوں میں مانسون کی بارش آفت بن کر برس رہی ہے۔ آسام میں ندیوں میں طغیانی کے باعث ریاست کے 7 اضلاع زیر آب آ چکے ہیں۔ دوسری جانب ناگالینڈ کے پہاڑی علاقوں میں مسلسل ہو رہی بارش کی وجہ سے لینڈسلائیڈ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی جانب سے 28 جولائی کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں آسام میں ڈوبنے کی وجہ سے مزید 7 افراد کی موت درج کی گئی ہے، جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ تمام 7 ہلاکتیں صرف شیوساگر ضلع میں ہوئی ہیں۔ یہاں کئی گاؤں پوری طرح پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور لوگ امدادی کیمپوں میں پناہ لینے کو مجبور ہیں۔ فی الحال ریاست کے 7 اضلاع شیو ساگر، چرائی دیو، گولا گھاٹ، جورہاٹ، ناگاؤں، سونیت پور اور کامروپ میٹروپولیٹن سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں۔ سینکڑوں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ فصلوں کے ڈوبنے سے کسانوں اور چارے کی کمی کی وجہ سے مویشی پالنے والوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور انتظامیہ امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب ناگالینڈ میں بھی بارش کے سبب پہاڑوں میں شگاف پڑنے لگے ہیں۔ 29 جولائی کو ناگالینڈ کے موکوکچنگ ضلع کے ’اپر پینلی وارڈ‘ میں سونگتم بیپٹسٹ چرچ پادری کی رہائش کے قریب اچانک لینڈ سلائیڈ ہو گیا۔ پہاڑ سے گرے ملبے کی زد میں آ کر ایک کرایے کا مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ مکان کے ملبے میں دب کر موالونگ سونگتم (19 سال، 12ویں جماعت کا طالب علم) اور ان کے چھوٹے بھائی تھسیدیبا سونگتم (16 سال، 11ویں جماعت کا طالب علم) کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے وقت گھر میں موجود دونوں بھائیوں کی ماں شدید طور پر زخمی ہو گئی، جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

