انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان کے فاسٹ بولرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خرم شہزاد پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کر دیا جب کہ محمد عباس کو وارننگ جاری کی گئی ہے جب کہ دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران دونوں پاکستانی کھلاڑی لیول ون کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
آئی سی سی نے بتایا کہ خرم شہزاد اور محمد عباس نے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کی، جو کسی بلے باز کے آؤٹ ہونے کے بعد ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں سے متعلق ہے جو اسے اشتعال دلانے یا جارحانہ ردعمل پر اکسا سکتے ہوں۔
بیان کے مطابق خرم شہزاد کو ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کے 17 ویں اوور میں شائی ہوپ کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کے قریب جارحانہ انداز میں جشن منانے پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ کیا گیا کیوں کہ اس طرزِ عمل کو اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔
دوسری جانب محمد عباس کو ویسٹ انڈیز کی اننگز کی آخری وکٹ جومیل واریکن کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کے قریب پُرجوش انداز میں جشن منانے پر وارننگ دی گئی۔
آئی سی سی کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے رکن جیف کرو کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی، جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
یہ الزامات آن فیلڈ امپائرز الیکس وارف، رچرڈ کیٹلبرو اور تھرڈ امپائر جے رامن مدنا گوپال نے عائد کیے تھے۔
آئی سی سی نے مزید بتایا کہ لیول ون کی خلاف ورزی پر کم از کم وارننگ اور زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جب کہ ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جا سکتے ہیں۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے دوران 4 یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس حاصل کر لیتا ہے تو انہیں معطلی پوائنٹس میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جب کہ 2 معطلی پوائنٹس ایک ٹیسٹ یا 2 ون ڈے یا 2 ٹی20 میچز کی پابندی کے برابر ہوتے ہیں۔ ڈی میرٹ پوائنٹس 24 ماہ تک کھلاڑی کے ریکارڈ کا حصہ رہتے ہیں، جس کے بعد انہیں ختم کر دیا جاتا ہے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی: آئی سی سی نے پاکستانی بولرز کو سزا سنا دی

