لاہور:صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بلاول صاحب نے کل کسی کا گلا پکڑا پھر رات تک پاؤں پکڑے بیٹھے رہے۔
ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) پنجاب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام اب روایتی نعروں اور الزامات کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں اور فیصلہ صرف اور صرف عملی کارکردگی اور گڈ گورنس کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرپور ڈویژن کے غیور عوام نے مسلم لیگ (ن) کی ترقیاتی سیاست اور مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ن لیگ کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بے بنیاد دھاندلی کے الزامات کا روپ رونا رو رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مبینہ طور پر ووٹوں سے بھرے ہوئے بیگز خود پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے گھروں سے برآمد ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو کو پنجاب کی ترقی دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو لوگ اپنے زیرِ اقتدار صوبے سندھ میں پچھلے 17 سالوں کے دوران عوام کو پینے کا صاف پانی، بہترین تعلیمی ادارے، جدید ہسپتال اور ٹوٹ پھوٹ سے پاک سڑکیں تک فراہم نہیں کر سکے، وہ آزاد کشمیر کے عوام کو کیا ریلیف دیں گے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہم بلاول صاحب کو سندھ کا حال اور مریم نواز شریف کے وژن والا ترقی یافتہ پنجاب دکھاتے ہیں، جہاں گرین بسیں تمام اضلاع میں رواں دواں ہیں اور عوام کو دہلیز پر بنیادی سہولیات مل رہی ہیں۔”عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس نہ تو کوئی واضح بیانیہ ہے اور نہ ہی کارکردگی کا کوئی ایسا ریکارڈ جسے وہ عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ انہوں نے شرجیل میمن اور دیگر رہنماؤں کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہمیشہ قومی مفاد کی آڑ میں بلیک میلنگ کی سیاست کرنے والے اب پنجاب اور وفاق پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے کہا کہ سیاست خدمت کا نام ہے اور جو جماعتیں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتی ہیں، عوام انہیں ہر بار الیکشن میں پچھاڑ دیتی ہے۔

