واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کے پورے خطے کے لیے ایک ہنگامی سفری ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خطے کا سفر کرنے سے پہلے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ سوچیں اور سفر سے گریز کریں۔ محکمہ خارجہ نے صورتحال کو "پیچیدہ” قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہاں حالات کسی بھی وقت بغیر کسی پیشگی انتباہ کے سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
Middle East: Due to high tensions in the Middle East, the security environment remains complex with the potential for unforeseen escalation. We remind Americans in the region of the continued need for caution and encourage them to monitor the news for breaking developments.… pic.twitter.com/QKgyNLJSo9
— TravelGov (@TravelGov) July 18, 2026
یہ سفری وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے سے خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات راتوں سے جاری امریکی فضائی حملوں اور سعودی عرب سے اردن تک ایرانی میزائل و ڈرون حملوں نے پورے خطے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے عمان (اردن) کے قریب ایف-35 بیس پر آگ کے بڑے شعلے دیکھے گئے ہیں، جبکہ امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی تصدیق کا انتظار ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ "غیر متوقع کشیدگی” (Unforeseen escalation) خطے کا نیا معمول بن چکا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اپنے شہریوں کو سفر نہ کرنے کا مشورہ دینا دراصل خطے کے مستقبل کے بارے میں ان کے تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی کی صورتحال اتنی غیر یقینی ہے کہ کسی بھی لمحے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

