تہران:ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد (سابق سپریم لیڈر) کی آخری رسومات کے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو براہِ راست دھمکی دی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ "انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ وہ مجرم جن کے نام ہماری فہرست میں ہیں، وہ اپنے بستروں پر سکون سے مرنے کی خواہش اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔”
مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے ساتھ ہی تہران سے شائع ہونے والے اخبار ‘ہم شہری’ (Hamshahri) نے ایک انتہائی اشتعال انگیز "انتقامی فہرست” جاری کی ہے۔ اس فہرست میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تصاویر کے مابین سنائپر کے ہدف (Crosshairs) دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 11 دیگر عالمی رہنماؤں کو نارنجی رنگ کے قیدیوں والے لباس میں دکھایا گیا ہے، جن میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی اور امریکی سینیٹر مارکو روبیو شامل ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے قتل کے بعد سے اب تک ایک بار بھی عوامی سطح پر شرکت نہیں کی ہے۔ وہ مکمل طور پر تحریری بیانات کے ذریعے اپنی حکمرانی چلا رہے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران طیارہ تبدیل کرنے کا واقعہ مبینہ طور پر اسی انٹیلیجنس معلومات کا نتیجہ تھا، جن میں ٹرمپ کو ممکنہ خطرات کا سامنا تھا۔
اگرچہ تہران کی جانب سے باضابطہ طور پر اس فہرست کی توثیق نہیں کی گئی ہے اور یہ اخبار کے پرنٹ ایڈیشن میں نہیں چھپی، تاہم ‘ہمشہری’ اخبار براہِ راست تہران کی حکام کی زیرِ سرپرستی شائع ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر اس اقدام کو تہران کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ پالیسی اور خطے میں جاری کشیدگی میں خطرناک اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو ‘نشانے پر’: تہران کے اخبار نے عالمی رہنماؤں کی ‘ہٹ لسٹ’ جاری کر دی


