ممبئی / اترپردیش:بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان کی گوری اسپرٹ کے ساتھ حال ہی میں ہونے والی شادی ایک نئے قانونی اور مذہبی تنازع کی نذر ہو گئی ہے۔ 5 جولائی کو کورٹ میرج کرنے والے اس جوڑے کے نکاح پر اترپردیش کے ایک عالمِ دین نے سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے شریعت کے منافی قرار دیا ہے۔
आमिर खान की तीसरी शादी पर जारी हुआ फतवा!
अलीगढ़: मौलाना इफराहीम ने आमिर खान की शादी को लेकर बड़ा बयान दिया है. उन्होंने कहा कि गैर-इस्लाम वाली महिला से शादी करना नाजायज है. अगर कोई मुसलमान ऐसा करता है, तो वह गुनहगार है.
उन्होंने आरोप लगाया कि इस तरह के कदमों से शरीयत और इस्लाम… pic.twitter.com/9nHghNMDZu
— News Leader (@NewsLeaderLive) July 14, 2026
مسلم پرسنل دارالافتاء کے مفتیِ اعظم مولانا چودھری ابراہیم حسین نے اس شادی پر باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت، ایک مسلمان مرد کے لیے غیر مسلم خاتون سے اس وقت تک نکاح کرنا جائز نہیں جب تک کہ وہ خاتون اسلام قبول نہ کر لے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسی شادی اسلامی تعلیمات کے مطابق درست نہیں ہے اور اسے "گناہ” کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔
مولانا چودھری ابراہیم حسین نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جو لوگ اس طرح کے عمل کو گناہ نہیں سمجھتے یا اسے عام سمجھتے ہیں، انہیں آخرت میں اللہ کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ فتویٰ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین اس معاملے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
ابھی تک عامر خان یا ان کی اہلیہ گوری اسپرٹ کی جانب سے اس مذہبی اعتراض یا جاری ہونے والے فتوے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ بالی وڈ اسٹارز کی ذاتی زندگی اکثر میڈیا کی زینت بنی رہتی ہے، تاہم اس بار معاملہ عدالتی شادی کے بعد مذہبی حلقوں کی تنقید کی زد میں آ گیا ہے

