لندن/مسقط:مشرقِ وسطیٰ میں سمندری راستوں پر کنٹرول کے لیے جاری کشیدگی کے درمیان، یورپ نے آبنائے ہرمز میں نیویگیشنل فیس ( navigational fees) عائد کرنے کے ایک نئے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خطے میں جاری بحری بحران کو حل کرنا اور جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
یورپی ممالک کی جانب سے تجویز کردہ اس فارمولے کے تحت، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ فیس "اختیاری” (voluntary) ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سمندری ٹرانسپورٹ ایجنسی کی تائید حاصل ہو۔ برطانیہ کے ڈپٹی وزیراعظم ڈیوڈ لیمی نے خبردار کیا ہے کہ زبردستی ٹول وصول کرنا تباہ کن ہوگا، تاہم بعض حکومتی حلقے اسے ‘آبنائے ملائکہ’ کی طرز پر ایک قابلِ قبول طریقہ کار قرار دے رہے ہیں۔ عمان نے بھی اس سلسلے میں برطانوی وکلاء کے ساتھ مل کر ایک عملی خاکہ تیار کیا ہے، جس کی تفصیلات بتانے کے لیے عمانی ماہرین کی ٹیم تہران روانہ ہو رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
لندن میں منعقدہ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے اجلاس میں بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بحث ہوئی، جہاں خلیجی اور یورپی ممالک نے ایران کے جارحانہ رویے کی مذمت کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، جسے روس اور چین کی حمایت نہ مل سکی۔ اب تمام تر نظریں ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کرے گی کہ آیا خطے میں نیویگیشنل فیس کا یہ نیا ماڈل امن کی راہ ہموار کرے گا یا تناؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔

