واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھا گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھماکہ خیز انٹرویو میں ایران کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے ان کے قتل کی مبینہ سازش پر عمل درآمد کیا تو ایران کو ایسی تباہ کن بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
TRUMP: "1,000 missiles are locked and loaded and aimed at Iran… Orders have already been given, and the U.S. Military is ready, willing, and able.” pic.twitter.com/S2RSCovvpo
— BigBreakingWire (@BigBreakingWire) July 11, 2026
"میں ایران کی ہٹ لسٹ میں نمبر ون ہوں”: ٹرمپ
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ طویل عرصے سے ایران کی ‘کِل لسٹ’ (موت کی فہرست) میں سرفہرست ہیں، تاہم انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ انہیں اسرائیلی انٹیلی جنس نے کسی ایسی سازش کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اس خطرے سے آگاہ ہیں اور انہوں نے امریکی فوج کو واضح احکامات دے دیے ہیں کہ کسی بھی ایسی کوشش کی صورت میں ایران کو 1000 میزائلوں سمیت شدید ترین جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے۔
جنگ بندی کا باقاعدہ خاتمہ:
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ قائم تمام تر مفاہمتوں اور جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سفارت کاری کا وقت ختم ہو چکا ہے اور امریکا اپنی دفاعی صلاحیتوں کو پوری قوت سے استعمال کرے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد خطے میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ تہران کی جانب سے امریکا کے خلاف مسلسل جارحانہ بیانات اور امریکا کی جانب سے جوابی فوجی کارروائیوں نے خطے کو ایک مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ واشنگٹن اب کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

