رام مندر چندہ تنازعہ پر کانگریس نے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرسٹ کی تشکیل، جانچ، فنڈز اور انتظامی فیصلوں پر سوال اٹھائے اور وزیر اعظم سے اپنا کردار واضح کرنے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی: رام مندر چندہ چوری معاملے پر کانگریس نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے رہنما سریندر راجپوت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم نریندر مودی کی منظوری سے ہوئی تھی، اس لیے ٹرسٹ کے کام کاج اور اس پر لگنے والے الزامات سے وہ اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عوام کے سامنے واضح کریں کہ اس پورے معاملے میں ان کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔
سریندر راجپوت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا اور پران پرتشٹھا کی تقریب میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی تشکیل بھی وزیر اعظم کی مرضی سے ہوئی اور اس میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا تعلق ایک مخصوص نظریے سے ہے، جبکہ مذہبی شخصیات کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ رام مندر کروڑوں عقیدت مندوں کے ایمان اور جذبات سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے چندہ چوری جیسے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ چندہ چوری معاملے میں اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور چند افراد کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم کے دفتر، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد سے بھی جواب طلب کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو ان سے وابستہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے۔
سریندر راجپوت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ رام مندر ٹرسٹ کو حق اطلاعات قانون کے دائرے سے باہر کیوں رکھا گیا۔ ان کے مطابق اگر ٹرسٹ مکمل طور پر مذہبی ادارہ ہے تو اس میں زیادہ تر ایسے افراد کو کیوں شامل کیا گیا جن کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالات کے جواب ملک کے عوام کو دیے جانے چاہئیں۔

