موسم گرما کے ساتھ ہی بازاروں میں آموں کا ڈھیر لگ جاتا ہے جن کو دیکھ کر ہی منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔
آموں میں قدرتی مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہےاور اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریض فکرمند ہوتے ہیں کہ یہ مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھانے کا باعث نہ بن جائے۔
یہ خوف ذیابیطس سے متاثر متعدد افراد کو آم کھانے سے روکتا ہے، تو کیا واقعی یہ خدشات درست ہوتے ہیں؟
کیا شوگر کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟
یقیناً ذیابیطس کے مریض آموں کو دل بھر کر نہیں کھاسکتے مگر مکمل گریز بھی ضروری نہیں۔
ذیابیطس کے مریض بھی آموں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں مگر اعتدال میں رہ کر۔
اس کی چند وجوہات ہیں۔
آموں میں کاربوہائیڈریٹس (گلوکوز، شکر، نشاستہ اور سلولوز جیسے کیمیائی مرکبات کا گروہ) نامی غذائی جز موجود ہوتا ہے جو جسم کے اندر شکر میں تبدیل ہوکر بلڈ گلوکوز کی سطح پر اثرات مرتب کرتا ہے۔
درحقیقت ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی ہر غذا کا انتخاب گلائسمک انڈیکس (جی آئی) کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔
اس انڈیکس میں کسی غذا کی درجہ بندی بلڈ شوگر پر مرتب ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھ کر 0 سے 100 اسکور کے درمیان کی جاتی ہے۔
0 سے مراد بلڈ شوگر پر کوئی اثر مرتب نہ ہونا ہے تو 100 خالص چینی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس انڈیکس میں شامل ہر وہ غذا جس کے حصے میں55 سے کم نمبر آیا ہو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر انتخاب تصور کیا جاسکتا ہے اور آم (اس کا اسکور 51 ہے) ایسا ہی پھل ہے۔
یعنی اس کو کھانے سے بلڈ گلوکوز کی سطح پر فوری طور پر بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس پھل میں موجود فائبر نامی ایک اور غذائی جز بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
فائبر کے باعث جسم میں شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح پر بتدریج اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اعتدال میں رہ کر آموں کو کھانا ہی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر ہے، زیادہ مقدار میں اسے کھانے سے بلڈ شوگر بہت تیزی سے بڑھے گا جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
تو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں؟
آم کھانے سے بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکنے کا بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار مت کھائیں اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کرلیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ دن بھر میں 2 سلائیس سے زیادہ مت کھائیں بلکہ 2 سلائیس کھانے کے بعد بھی دیکھیں کہ بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ تو نہیں ہوا اور اس کے بعد تعین کریں کہ آئندہ دنوں میں کتنی مقدار زیادہ بہتر رہے گی۔
اور ہاں آم کا جوس پینے سے گریز کریں کیونکہ اس میں مٹھاس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور بہتر ہے کہ دن کے اوقات میں ہی اس پھل کو کھائیں۔
جس دن آم کھائیں اس دن ایسی مزید کوئی غذا استعمال نہ کریں جس میں شکر کی مقدار زیادہ ہو۔
تحقیقی رپورٹس میں کیا بتایا گیا؟
کچھ عرصے پہلے امریکا کی جارج میسن یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جن افراد میں ذیابیطس کا خطرہ ہوتا ہے، وہ اگر آم کھاتے ہیں تو بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے۔
درحقیقت تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ جو افراد ہائی بلڈ شوگر کے شکار ہوتے ہیں مگر ذیابیطس سے محفوظ ہوتے ہیں، وہ آموں کے ذریعے اس بیماری سے خود کو بچا سکتے ہیں۔
ایک آم میں 50 گرام تک مٹھاس موجود ہوتی ہے مگر اس میں موجود دیگر غذائی اجزا بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں شامل افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ایک گروپ میں شامل افراد کو روزانہ آموں کا استعمال کرایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو کم چینی والی granola بار کھانے کی ہدایت کی گئی۔
6 ماہ تک اس معمول کو برقرار رکھا گیا، جس دوران ان افراد کے بلڈ گلوکوز کی سطح، انسولین پر جسم کے ردعمل اور جسمانی چربی کو جانچا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ میٹھے آم کھانے والے افراد کو granola بار والے گروپ کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہوا۔
تحقیق کے مطابق روزانہ آم کھانے والے افراد کا جسم بلڈ گلوکوز کو زیادہ مؤثر انداز سے کنٹرول کرنے لگا، انسولین کی حساسیت بڑھ گئی جبکہ جسمانی چربی کی سطح میں کمی آئی۔
جون 2025 میں جرنل آف دی امریکن نیوٹریشن ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ 330 گرام آم کھانے والی درمیانی عمر کی خواتین میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ آم کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں بہت زیادہ تیزی سے اضافہ نہیں ہوتا۔
اس تحقیق میں 50 سے 70 سال کی عمر کی 24 خواتین کو شامل کیا گیا تھا جو موٹاپے یا اضافی جسمانی وزن کی مالک تھیں۔
2 ہفتوں تک ان خواتین کو روزانہ ڈیڑھ کپ آموں کا استعمال کرایا گیا اور کئی بار لیبارٹری میں ان کے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دیگر جسمانی ڈیٹا کو اکٹھا کیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ ہم نے آموں کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ پھل فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایسے بائیو ایکٹیو اجزا سے لیس ہوتا ہے جو دل کی صحت کے لیے مفید تصور کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا تھا کہ آم کھانے سے بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے اختتام پر دریافت ہوا کہ آم کھانے کے 2 گھنٹے بعد خواتین کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آتی ہے جبکہ شریانوں پر دباؤ بھی گھٹ جاتا ہے۔

