Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مہنگے پیٹرول سے جان چھڑائیں: حکومت نے الیکٹرک سواری خریدنے والے شہریوں کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے

      سام سنگ کا نیا معرکہ؛ ’گلیکسی زی فولڈ 8 الٹرا‘ کی بڑی خصوصیات منظرعام پرآگئیں

      یوٹیوب شارٹس میں بڑی تبدیلی: اب تصاویر کے ذریعے بھی اسٹوری سنائیں

      سب میرین کیبل میں خرابی، انٹر نیٹ سست ، موبائل رجسٹریشن کا عمل معطل: پی ٹی اے کا اہم بیان سامنے آ گیا

      گوگل پر اربوں ڈالر کا جرمانہ: سویڈش عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ذیابیطس کے مریض اور آم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    موسم گرما کے ساتھ ہی بازاروں میں آموں کا ڈھیر لگ جاتا ہے جن کو دیکھ کر ہی منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔

    آموں میں قدرتی مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہےاور اسی وجہ سے ذیابیطس کے مریض فکرمند ہوتے ہیں کہ یہ مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھانے کا باعث نہ بن جائے۔

    یہ خوف ذیابیطس سے متاثر متعدد افراد کو آم کھانے سے روکتا ہے، تو کیا واقعی یہ خدشات درست ہوتے ہیں؟

    کیا شوگر کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟

    یقیناً ذیابیطس کے مریض آموں کو دل بھر کر نہیں کھاسکتے مگر مکمل گریز بھی ضروری نہیں۔

    ذیابیطس کے مریض بھی آموں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں مگر اعتدال میں رہ کر۔

    اس کی چند وجوہات ہیں۔

    آموں میں کاربوہائیڈریٹس (گلوکوز، شکر، نشاستہ اور سلولوز جیسے کیمیائی مرکبات کا گروہ) نامی غذائی جز موجود ہوتا ہے جو جسم کے اندر شکر میں تبدیل ہوکر بلڈ گلوکوز کی سطح پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

    درحقیقت ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی ہر غذا کا انتخاب گلائسمک انڈیکس (جی آئی) کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔

    اس انڈیکس میں کسی غذا کی درجہ بندی بلڈ شوگر پر مرتب ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھ کر 0 سے 100 اسکور کے درمیان کی جاتی ہے۔

    0 سے مراد بلڈ شوگر پر کوئی اثر مرتب نہ ہونا ہے تو 100 خالص چینی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس انڈیکس میں شامل ہر وہ غذا جس کے حصے میں55 سے کم نمبر آیا ہو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر انتخاب تصور کیا جاسکتا ہے اور آم (اس کا اسکور 51 ہے) ایسا ہی پھل ہے۔

    یعنی اس کو کھانے سے بلڈ گلوکوز کی سطح پر فوری طور پر بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس پھل میں موجود فائبر نامی ایک اور غذائی جز بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    فائبر کے باعث جسم میں شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح پر بتدریج اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اعتدال میں رہ کر آموں کو کھانا ہی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر ہے، زیادہ مقدار میں اسے کھانے سے بلڈ شوگر بہت تیزی سے بڑھے گا جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

    تو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں؟

    آم کھانے سے بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکنے کا بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار مت کھائیں اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کرلیں۔

    ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ دن بھر میں 2 سلائیس سے زیادہ مت کھائیں بلکہ 2 سلائیس کھانے کے بعد بھی دیکھیں کہ بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ تو نہیں ہوا اور اس کے بعد تعین کریں کہ آئندہ دنوں میں کتنی مقدار زیادہ بہتر رہے گی۔

    اور ہاں آم کا جوس پینے سے گریز کریں کیونکہ اس میں مٹھاس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور بہتر ہے کہ دن کے اوقات میں ہی اس پھل کو کھائیں۔

    جس دن آم کھائیں اس دن ایسی مزید کوئی غذا استعمال نہ کریں جس میں شکر کی مقدار زیادہ ہو۔

    تحقیقی رپورٹس میں کیا بتایا گیا؟

    کچھ عرصے پہلے امریکا کی جارج میسن یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جن افراد میں ذیابیطس کا خطرہ ہوتا ہے، وہ اگر آم کھاتے ہیں تو بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے۔

    درحقیقت تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ جو افراد ہائی بلڈ شوگر کے شکار ہوتے ہیں مگر ذیابیطس سے محفوظ ہوتے ہیں، وہ آموں کے ذریعے اس بیماری سے خود کو بچا سکتے ہیں۔

    ایک آم میں 50 گرام تک مٹھاس موجود ہوتی ہے مگر اس میں موجود دیگر غذائی اجزا بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

    ایک گروپ میں شامل افراد کو روزانہ آموں کا استعمال کرایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو کم چینی والی granola بار کھانے کی ہدایت کی گئی۔

    6 ماہ تک اس معمول کو برقرار رکھا گیا، جس دوران ان افراد کے بلڈ گلوکوز کی سطح، انسولین پر جسم کے ردعمل اور جسمانی چربی کو جانچا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ میٹھے آم کھانے والے افراد کو granola بار والے گروپ کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہوا۔

    تحقیق کے مطابق روزانہ آم کھانے والے افراد کا جسم بلڈ گلوکوز کو زیادہ مؤثر انداز سے کنٹرول کرنے لگا، انسولین کی حساسیت بڑھ گئی جبکہ جسمانی چربی کی سطح میں کمی آئی۔

    جون 2025 میں جرنل آف دی امریکن نیوٹریشن ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ 330 گرام آم کھانے والی درمیانی عمر کی خواتین میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ آم کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں بہت زیادہ تیزی سے اضافہ نہیں ہوتا۔

    اس تحقیق میں 50 سے 70 سال کی عمر کی 24 خواتین کو شامل کیا گیا تھا جو موٹاپے یا اضافی جسمانی وزن کی مالک تھیں۔

    2 ہفتوں تک ان خواتین کو روزانہ ڈیڑھ کپ آموں کا استعمال کرایا گیا اور کئی بار لیبارٹری میں ان کے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دیگر جسمانی ڈیٹا کو اکٹھا کیا گیا۔

    محققین نے بتایا کہ ہم نے آموں کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ پھل فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایسے بائیو ایکٹیو اجزا سے لیس ہوتا ہے جو دل کی صحت کے لیے مفید تصور کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا تھا کہ آم کھانے سے بلڈ پریشر اور خون میں چکنائی کی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق کے اختتام پر دریافت ہوا کہ آم کھانے کے 2 گھنٹے بعد خواتین کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آتی ہے جبکہ شریانوں پر دباؤ بھی گھٹ جاتا ہے۔

    نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

    Related Posts

    حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس

    قدیمی سالانہ جلوس و مجلسِ عزا بھگوال میں پُرامن طور پر اختتام پذیر 

    بین ریاستی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو سماجی امتیاز کا سامنا

    مقبول خبریں

    بین ریاستی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو سماجی امتیاز کا سامنا

    شدید بارش اور ٹریک پر پانی بھر جانے سے40سے زیادہ ٹرینیں متاثر

    ذیابیطس کے مریض اور آم

    خیبرپختونخوا حکومت نے کارکردگی بڑھانے کے لئے پرفارمنس فریم ورک متعارف کرادیا

    شدید گرمی اورپانی بھی نایاب ہوگیا،عوام سراپااحتجاج،سٹرک پردھرنا

    بلاگ

    ڈی آئی جی اپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟ملک محمد سلمان کا کالم

    اور:- سوال صرف ایک ہے۔۔۔ آخر کب تک۔

    کرائم کہانی ،ہاشم نورزئی قتل کیس، پولیس نے ’احتجاج اور فاتحہ میں شریک رہنے والا‘ ملزم کیسے پکڑا؟

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟ چند سادہ احتیاطی تدابیر جو جان بچا سکتی ہیں

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.