بنگلورو: بھارت کی ایک عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر مالی طور پر خود مختار بیوی اپنے شوہر سے زیادہ کماتی ہے تو وہ مینٹیننس (کفالت/گزارہ بھتہ) پانے کی حقدار نہیں ہے۔
کرناٹک کی عدالت نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو خارج کر دیا جس میں شوہر کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو عبوری مینٹیننس کے طور پر ماہانہ 20,000 روپے ادا کرے۔
جسٹس چلکور سملتا نے یہ حکم شوہر کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جاری کیا جس میں ٹرائل کورٹ کے ماہانہ کفالت کی ادائیگی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت کو یہ فرض کرتے ہوئے کہ شوہر ہمیشہ اپنی بیوی کی مالی مدد کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، صرف جنس کی بنیاد پر کفالت کا ایوارڈ نہیں دینا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ہر کیس کے حقائق اور حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی مینٹیننس کے احکامات جاری کیے جائیں، خاص طور پر جب بیوی مالی طور پر محفوظ ہو اور اسے اس طرح کی مدد کی ضرورت نہ ہو۔
عدالت نے مزید کہا کہ جہاں بیوی مالی طور پر خود مختار ہے، اپنے شوہر سے زیادہ کماتی ہے، اور اس پر بچوں کی دیکھ بھال جیسی کوئی اضافی ذمہ داری نہیں ہے، ایسی صورت میں عدالت صرف اس خیال پر شوہر کو کفالت ادا کرنے کا حکم نہ دے کہ بیوی کی دیکھ بھال کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
بنچ نے خاندانی عدالتوں کو روایتی سوچ سے متاثر ہونے کے خلاف متنبہ کیا کہ شوہر کو ہمیشہ اپنی بیوی کی کفالت کرنی چاہیے۔ بنچ نے کہا کہ عام طور پر عبوری یا حتمی کفالت صرف اسی صورت میں دی جانی چاہیے جب بیوی یہ دکھا دے کہ اس کے پاس اپنی کفالت کے لیے کوئی دوسرا مالی ذریعہ نہیں ہے۔
اس کیس کے حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ بیوی نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے ہے، جو اس کے شوہر کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ "بیوی مالی طور پر خود مختار ہے اور اپنی کفالت خود کر سکتی ہے۔” لہذا، ٹرائل کورٹ کے لیے شوہر کو، جس کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 60 ہزار ہے، کو عبوری دیکھ بھال کے طور پر ماہانہ 20 ہزار ادا کرنے کا حکم دینا درست نہیں تھا۔
تاہم، ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ عبوری دیکھ بھال کے معاملے تک محدود ہے اور اس سے ازدواجی تنازع یا دیکھ بھال سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اگر بیوی شوہر سے زیادہ کماتی ہوتو گذارہ الاؤنس کی حقدار نہیں، عدالت کا بڑا حکم

