بالی، انڈونیشیا: انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی مقام ’اُلوواتو ٹیمپل‘ (Uluwatu Temple) میں ایک برطانوی سیاح کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک شرارتی بندر نے جیب کتروں کی طرح سیاح کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا۔
تفصیلات کے مطابق، برطانیہ کے علاقے ٹیلفورڈ سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ اولیور لائیڈ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ 15 جون کو اُلوواتو مندر کی سیر کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک طویل دم والے ’میکاک‘ (macaque) نسل کے بندر نے پھرتی دکھاتے ہوئے اولیور کے ہاتھ سے فون جھپٹا اور جنگل کی جانب فرار ہو گیا۔ بندر کے فرار ہوتے ہی اولیور اور اس کی ساتھی نے مندر کے گارڈز کی مدد سے سینکڑوں بندروں کے درمیان اپنے فون کی تلاش شروع کر دی۔
ٹیکنالوجی کی مدد سے بازیابی
ایک گھنٹے سے زائد کی مایوس کن تلاش کے بعد، اولیور کی گرل فرینڈ کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے فون میں موجود ’لائف 360‘ (Life360) ٹریکنگ ایپ کا استعمال کیا، جس کی بدولت انہیں فون کی درست لوکیشن کا پتہ چل گیا۔ لوکیشن ملنے کے بعد مندر کے ایک مستعد گارڈ نے جنگل میں بندر کا پیچھا کیا اور خوش قسمتی سے فون کو بحفاظت برآمد کر لیا۔
اُلوواتو مندر میں بندروں کی جانب سے سیاحوں کی اشیاء چھیننے کے واقعات عام ہیں، تاہم اولیور لائیڈ کے معاملے میں جدید ٹیکنالوجی نے اسے ایک بڑے نقصان سے بچا لیا۔ اس دلچسپ اور ہنگامہ خیز تجربے کے بعد سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں اپنے قیمتی سامان کو بند بیگ میں رکھیں اور بندروں سے خاصی دوری اختیار کریں۔
بالی: شرارتی بندربرطانوی سیاح کا موبائل فون چھین کر فرار، سیلفیاں اتارتارہا، فون کیسے بازیاب ہوا؟

