یروشلم: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل خلا میں ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے زمین سے باہر یعنی خلا سے حملہ کیا جا سکے گا۔ فوجی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کے پاس خلا سے حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اور اسرائیل کا ہدف اس میدان میں دنیا کی نمبر ون طاقت بننا ہے۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ "ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ اگر ہم خلا میں یہ اہداف حاصل کر لیتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنے دشمنوں کے خلاف ایسی تزویراتی برتری حاصل ہوگی جو دشمن کے بڑے وسائل کو بھی بے اثر کر دے گی۔”
اگرچہ اسرائیل پہلے ہی ’آئرن بیم‘ (Iron Beam) جیسے زمینی لیزر سسٹم پر کام کر چکا ہے، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے باضابطہ طور پر ’اسپیس لیزر‘ کا ذکر کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کا یہ منصوبہ بنیادی طور پر ایران کو روکنے کے لیے ہے، کیونکہ اس سال ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران اسرائیل نے ایران کے ان مقامات کو نشانہ بنایا تھا جو سیٹلائٹ شکن ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور چین پہلے ہی اپنے سیٹلائٹس کو نشانہ بنا کر خلا میں اپنی عسکری صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ ہے کہ خلا سے باقاعدہ حملے کی صلاحیت میں اسرائیل سبقت لے جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ عسکری منصوبہ جہاں اسے دشمنوں کے سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کی طاقت دے گا، وہیں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر ایران یا دیگر دشمن ممالک اس دوڑ میں آگے نکل گئے، تو وہ اسرائیل کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹس کو نشانہ بنا کر اسے شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

