واشنگٹن/لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور اہم آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ تک بلا تعطل رسائی کے حوالے سے جاری مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی ملے جلے رجحانات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل (Brent Crude Oil) کی قیمت میں 33 سینٹ یا 0.45 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 73.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل بھی 34 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے بعد 69.84 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تیل کی منڈی کے تجزیاتی ادارے ‘وانڈا انسائٹس’ کی بانی وندانا ہری کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق انتہائی غیر ہموار اور غیر یقینی ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کے حوالے سے مکمل شفافیت نہیں آتی، منڈی مستقل امن کے واضح آثار کا انتظار کرتی رہے گی۔ تب تک تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔”
ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ فوجی جھڑپوں نے عالمی توانائی کی سپلائی لائن کے لیے خطرات پیدا کر رکھے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، وہاں سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، لیکن فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان منڈیوں میں اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔
ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی اس صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ پایا جاتا ہے اور حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

