تحریرمیاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اب دنیا ایران امریکاامن معاہدہ پر طرح طرح کے سوال اٹھا رہی ہے کہ اس کا کیا مستقبل ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ یہ معاہدہ امریکا کی مجبوری ہے صرف حالات اور مجبوریاں ہی اس معاہدہ کو برقرار رکھ سکتی ہیں امریکہ کا بس نہیں چل رہا ورنہ وہ شام سے پہلے ایران پر قبضہ کر لے ایران نے امریکہ کو بری طرح ایکسپوز کر دیا ہے اس کی طاقت کا بھرم چکنا چور ہو چکا اس کے وعدے وعید اس کی اخلاقیات اس کے معاہدوں مذاکرات کا ڈھونگ سب کچھ عیاں کر دیا ہے امریکہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہے اور ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے، بہت کچھ بدلنے والا ہے بس دیکھیں اور انتظار کریں دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ہر قسم کے حالات میں اپنا مفاد اور بہتری تلاش کی جائے پاکستان نے اپنی ڈائریکشن درست کر لی ہے حکومت ایران سے سستا تیل خریدنے کے لیے حکمت عملی طے کر رہی ہے پاکستان کو ان بدلتے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنا چاہیے ایران سے فوری سستا تیل خریدنا شروع کر دینا چاہیے اور ایران کے ساتھ باہمی تجارت کی راہ ہموار کرنی چاہیے یہ وقت ہے فوری اقدامات کرنے کا اگر ہم نے انتظار کیا تو پھر ہم انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے ہمیں فوری اقدامات کرکے فوائد سمیٹنے چاہیں ساتھ ہی ساتھ اپنا ثالثی والے کردار پر بھی پہرہ دیتے رہنا چاہیے اور مڈل ایسٹ کے دوسرے ممالک میں بھی اپنے لیے کام ڈھونڈنے کی کوششیں تیز کرنی چاہیے ہم فوری طور پر پاکستان کے اندر لاکھوں بیروزگاروں کو فوری روز گار نہیں دے سکتے لیکن دنیا میں جہاں جہاں افرادی قوت کی ضرورت ہے اپنی بہترین سفارتکاری کے ذریعے وہاں پاکستان کی افرادی قوت کو کھپایا جا سکتا ہے۔


