سوئس بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ذاتی دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 10 لاکھ نئے افراد امریکی ڈالرز میں کروڑ پتی بن گئے ہیں۔
سوئس بینک یو بی ایس کی سالانہ گلوبل ویلتھ رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں ذاتی دولت میں گذشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں تیز ترین اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی ذاتی دولت میں 10.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یہ شرح 2024 میں 4.6 فیصد اور 2023 میں 4.2 فیصد تھی۔
بینک کے مطابق مضبوط مالیاتی مارکیٹس کی اچھی کارکردگی کروڑ پتی افراد کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
یو بی ایس نے کہا کہ 2025 میں ’پہلے سے کہیں زیادہ اور دنیا کے ہر خطے میں کروڑ پتی افراد ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق صرف امریکا میں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کروڑ پتی بنے جو دنیا بھر میں نئے کروڑ پتی بننے والے افراد کی مجموعی تعداد کا تقریباً نصف بنتے ہیں۔
بینک کے مطابق یورپ میں بھی امریکی ڈالر کے لحاظ سے دولت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ گذشتہ سال یورو کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اوسط دولت میں اضافہ ہوا تاہم 2020 کے بعد سے دولت کی غیر مساوی تقسیم میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کسی بھی ملک میں متوسط طبقے کی دولت کا اندازہ لگانے والا انڈیکس بیشتر ممالک میں امیر ترین طبقے اور عام آبادی کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری کے لیے یو بی ایس نے دنیا کے 56 ممالک تجزیہ کیا، جو اس کے اندازے کے مطابق عالمی دولت کے 92 فیصد سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
دنیا کےکروڑ پتیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، کس ملک میں سب سے زیادہ ملئنیر بنے ؟

