لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے سینٹ پینکراس اسٹیشن کے باہر ابوظہبی کے شاہی خاندان کے تین ارکان سے 6 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے زیورات چوری کرنے والے گروہ کے ارکان کو عدالت نے جیل بھیج دیا ہے۔
یہ واقعہ 16 اکتوبر 2025 کو اس وقت پیش آیا جب ابوظہبی کے شاہی خاندان (آل نہیان) کی تین خواتین، روضہ آل نہیان، ان کی والدہ شمسہ، اور نجلاء القبیسی پیرس سے ‘یوروسٹار’ ٹرین کے ذریعے لندن پہنچیں۔
استغاثہ کے مطابق، جیسے ہی شاہی خاندان کی خواتین اسٹیشن سے باہر نکل کر ٹیکسی میں سوار ہو رہی تھیں، ایک نامعلوم شخص نے ٹیکسی ڈرائیور کی توجہ بٹا دی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوروں نے زیورات سے بھرے تین سوٹ کیس اٹھا لیے اور رات 11 بجے موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ واردات الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے کی تھی۔ چوروں نے زیورات کی اس بھاری کھیپ کو محض 10 ہزار پاؤنڈ (یعنی اصل مالیت کے صرف 1.7 فیصد) میں جنوبی لندن کے ایک مارکیٹ ٹریڈر کو فروخت کر دیا تھا۔ چوری شدہ زیورات بازیاب نہیں کرائے جا سکے۔
لندن کی عدالت نے کل اس واردات میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو سزا سنائی:
عبدال آیت کبیر (35 سال): کو 2 سال اور 6 ماہ قید۔
مہدی فاتح (41 سال): کو 2 سال اور 3 ماہ قید۔
اس گروہ کے ایک اور ساتھی فیصل بنومچیارا (27 سال) کو بھی دیگر پانچ الگ الگ چوریوں میں ملوث ہونے پر قید کی سزا سنائی گئی، جس میں اس نے 81 ہزار پاؤنڈ مالیت کا سامان چرایا تھا۔
تفتیش کے دوران ملزمان کے فون سے ملنے والے واٹس ایپ پیغامات سے پتہ چلا کہ یہ گروہ خصوصی طور پر چوری کرنے کے لیے ہی برطانیہ آیا تھا۔ ایک پیغام میں انہوں نے لکھا تھا کہ "یہ ملک وہ جگہ ہے جہاں پیسہ موجود ہے۔” سی سی ٹی وی فوٹیجز میں بھی ملزمان کو کئی دنوں تک سینٹ پینکراس اسٹیشن کے باہر گھومتے اور امیر مسافروں کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ آل نہیان خاندان متحدہ عرب امارات کا حکمران خاندان ہے، جس کی مجموعی دولت 250 ارب پاؤنڈ سے زائد بتائی جاتی ہے۔

