لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سانحہ 9 مئی کے دوران مغلپورہ میں پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا، جس میں پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا گیا۔
اے ٹی سی کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں مقدمہ نمبر 1570/23 کا فیصلہ سنایا، عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی۔
استغاثہ کے مطابق سزا پانے والے رہنماؤں پر 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور کارکنوں کو فسادات اور بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد تھے۔
مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 22 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے دو ملزمان اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 20 ملزمان کے خلاف فیصلہ سنایا گیا۔
پراسیکیوشن نے عدالت میں 37 گواہان پیش کیے اور ملزمان کو سزا دینے کی استدعا کی تھی۔
واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق متعدد مقدمات کے فیصلے پہلے بھی سنائے جا چکے ہیں، جبکہ یہ اس سلسلے کا ایک اہم مقدمہ تھا۔
سانحہ نو مئی مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ کا فیصلہ
عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ، کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی .سزا پانے والے رہنماؤں پر نو مئی کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے .پراسکیوشن نے ملزمان کیخلاف 37 گواہان پیش کئے .
اے ٹی سی کورٹ کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا .پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو نو مئی بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے
نو مئی کے 7 مقدمات کے فیصلے پہلے ہو چکے ہیں
عدالت نے پی ٹی آئی وائس چیرمین شاہ محمود قریشی کو مقدمہ سے بری کر دیا. کارکنان سلمان، عدنان ، شعیب ، شاہ زیب، رضوان ، ہارون، اعظم، شمشاد، عباس ، طیب اور حافظ عثمان کو عدالت نے بری کر دیا.کارکن شاہ دین، خاور حسین، احمد زاہد ، اور حافظ سید الرحمان کو دس دس سال قید کی سزاسنائی گئی ۔

