شہدادپور (رپورٹ عمران قمر )
میونسپل کمیٹی شہدادپور کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے نام پر شہر کے مختلف علاقوں میںمتعدد گلیاں آدھی تعمیر کرکے ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات، آمد و رفت میں رکاوٹ اور روزمرہ زندگی میں پریشانی کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ترقیاتی منصوبے عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل سے مکمل کیے جاتے ہیں تو پھر انہیں ادھورا کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام زیرِ التوا ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ شہدادپور کے شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ، سیکریٹری بلدیات سندھ، ڈپٹی کمشنر سانگھڑ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، ادھورے ترقیاتی کاموں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ آدھی تعمیر شدہ گلیاں کس ترقیاتی اسکیم یا ٹینڈر کے تحت تعمیر کی جا رہی ہیں، منصوبے کی مجموعی لاگت کیا ہے، کن علاقوں کو شامل کیا گیا ہے، کنٹریکٹر کون ہے، اور منصوبہ مکمل کرنے کی مقررہ مدت کیا ہے۔

