واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس کا انحصار ایران کے الفاظ پر نہیں بلکہ ان کے ‘کردار اور عملی اقدامات’ پر ہے۔
سی بی این (CBN) نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اس بات پر گہری تشویش رکھتی تھی کہ چند ماہ قبل تک ایران میں جن لوگوں کا کنٹرول تھا، ان کے ہاتھوں بے گناہ مظاہرین کا خون بہایا گیا۔ انہوں نے کہا، "وہ لوگ اب جا چکے ہیں، لیکن اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا نئی ایرانی قیادت اپنے عوام کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرتی ہے۔ ہم پرامید ہیں کہ ایسا ہوگا، لیکن اگر نہیں، تو ہمیں ان کے عملی اقدامات سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔”
نائب صدر نے مزید کہا کہ اس مفاہمت کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ صرف وعدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ ایران اپنے عمل سے خود کو کیسے ثابت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور تناؤ میں کمی کے لیے ایک مفاہمت طے پائی ہے، جسے امریکی حکام ایک ‘ابتدائی خاکہ’ قرار دے رہے ہیں۔ جے ڈی وینس نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا، کیونکہ معاہدے کے حتمی نتائج اور معاشی فوائد کا دارومدار تہران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور جوہری پروگرام پر ان کے تعاون پر ہوگا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو اپنی فوجی صلاحیتوں کی بحالی یا جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے سے روکنے کے لیے ایک امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو امریکا کے پاس دیگر آپشنز (بشمول فوجی دباؤ) اب بھی موجود ہیں۔
ایران کو الفاظ سے نہیں، عملی اقدامات سے جانچا جائے گا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

