شورکوٹ میں مبینہ طور پر بھتہ خور اور اشتہاری عمر دراز ڈاکو گینگ کی جانب سے مسلسل حملوں کے خلاف اہلِ علاقہ اور سیال برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ تازہ ترین واقعے میں ایم اے کے طالب علم زمان منظور سیال کو دن دہاڑے ان کے بزنس آفس میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق آج دوپہر تقریباً ایک بجے شورکوٹ کینٹ روڈ پر واقع شوگر مل کے قریب زمان منظور سیال اپنے دفتر میں موجود تھے کہ مسلح ملزمان وہاں پہنچے اور فائرنگ کر دی۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر ان کی ایک ٹانگ میں متعدد گولیاں ماریں، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ زیادہ خون بہنے کے باعث ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق یہ عمر دراز ڈاکو گینگ کا پہلا حملہ نہیں۔ 2025 میں بھی اسی گینگ نے مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر ٹھیکیدار منظور سیال، ان کے کزنز اور دیگر افراد پر حملہ کر کے چار افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ اس واقعے کے مقدمات درج ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہو سکے۔ خاندان کا مزید کہنا ہے کہ صرف پندرہ روز قبل بھی انہی ملزمان نے ایک اور حملہ کرتے ہوئے خاندان کے ایک نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ بھی درج ہوا، تاہم متاثرین کے مطابق پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ تازہ حملے کے بعد اہلِ علاقہ اور سیال برادری کے افراد نے شورکوٹ کینٹ روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ قتل، اقدام قتل، ڈکیتی اور راہزنی سمیت سنگین مقدمات میں ملوث اور اشتہاری ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں ملزمان کی جانب سے دھمکی آمیز وائس میسج بھی موجود ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفتار کرنے میں ناکام ہیں۔
مظاہرین نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب، سی سی ڈی پنجاب اور ضلعی پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلسل حملوں میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
شورکوٹ اشتہاری گینگ کا پھرحملہ، طالب علم زخمی ،روڈ بلاک مشتعل شہریوں کا احتجاج

