لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے سندر میں پانچ سالہ بچے کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونا انتظامی غفلت کا ایک المناک واقعہ ثابت ہو گیا ہے۔ پولیس نے متوفی بچے حسن کے والد عامر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں نجی سوسائٹی انتظامیہ اور کنسٹرکشن کمپنی کو بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
بچے کے والد عامر نے افسوسناک حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی میں سیوریج سسٹم فعال نہیں ہے، اور سوسائٹی کا اضافی پانی غیر قانونی طور پر رہائشیوں کی سیوریج لائن میں چھوڑا جاتا ہے۔ عامر کے مطابق، معمول کے برعکس سوسائٹی انتظامیہ نے پانی شام کے وقت ہی لائن میں چھوڑ دیا، جس کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ معصوم بچہ اس کی نذر ہو گیا۔ بچے کو تلاش کرنے پر تقریباً 300 فٹ دور بارہویں مین ہول سے نکالا گیا، لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے سوگوار خاندان سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اس واقعے نے لاہور سمیت ملک بھر کے رہائشی علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام اور حفاظتی انتظامات کے پول کھول دیے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کھلے مین ہولز موت کے کنویں بنے ہوئے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان کی دیکھ بھال نہ ہونا مجرمانہ غفلت ہے۔
اہلِ علاقہ اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف محض محکمانہ کارروائی کافی نہیں، بلکہ انہیں سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے بچائی جا سکے۔
لاہور: کھلے مین ہول نے 5 سالہ حسن کی جان لے لی؛ وزیر اعلیٰ کا نوٹس والد کی مدعیت میں انتظامیہ اور نجی سوسائٹی کے خلاف مقدمہ درج

