لاہور:سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے اہلکار سے غلطی ہوئی، ہم غمگین ہیں ہم معذرت خواہ ہیں، ہم متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہیں انصاف دیا جائے گا، قانونی پیش رفت کیلئے گرفتار اہلکاروں کا چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے بچی کی ہلاکت کے معاملے پر پیر کے روز سی سی ڈی ہیڈکوارٹرز ٹاؤن شپ لاہور میں پریس بریفنگ دی گئی۔
پریس بریفنگ کے دوران ایس پی سی سی ڈی شاہ میر خالد نے کہا کہ چند روز قبل سی سی ڈی چکوال کے تھانہ کے قریب ایک فیملی کے ساتھ واردات ہورہی تھی۔ مسلح ڈاکوؤں نے فائرنگ کی اور اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
اہلکاروں کو لگا کہ ڈاکو گن پوائنٹ پر فیملی سے گاڑی چھین کر فرار ہو رہے ہیں۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے قانون کے مطابق ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، اہلکاروں کو تربیت کے مطابق گاڑی کے ٹائر پر فائز کرنا چاہیے تھا۔
غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو حراست میں لے کر قانونی و محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی، متاثرہ خاندان کو شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی، ہم متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہیں انصاف دیا جائے گا۔ دوسری جانب پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے مبینہ سی سی ڈی کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالی 9 سالہ بچی ہانیہ کے کیس کو ہائی پروفائل کیس ڈیکلر کرتے ہوئے چکوال واقعے کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ، ایف آئی آر کے مطابق ہانیہ کے والد عدیل احمد نے موقف اپنایا کہ وہ آسٹریلیا کا رہائشی ہے،10 جون رات 9 بجے بیوی ،بیٹیاور 9 سالہ بیٹی ہانیہ کے ہمراہ چکوال کے گائوں ڈھڈیال پہنچے۔
انھوں نے مزید بتاتا کہ جب ہم سی سی ڈی آفس کے قریب راجہ علی اعجاز کے گھر پہنچے تو اچانک دو نامعلوم افراد وہاں آگئے، انھوں نے پوری فیملی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور گن پوائنٹ پر بیوی کے زیور وغیرہ لوٹ لیا،اسی دوران ایک گولی کی آواز آئی جس کے بعد دونوں ڈاکوئوں نے فائزنگ شروع کردی،میں نے کار کو دربار کی جانب بڑھا دیا، لیکن ملزمان نے تعاقب کرتے ہوئے ہماری گاڑی پرفائرنگ جاری رکھی جس کے نتیجہ میں بیٹا عفان اور بیٹی ہانیہ شدیدزخمی ہوگئے، بچوں کوفوری طور پرڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن بیٹی زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگئی۔

