کراچی: پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں مندی کے اثرات کے باعث انویسٹرز کی جانب سے شدید فروخت دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس ایک ہی جھٹکے میں 1,900 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
صبح 9 بجکر 30 منٹ پر ٹریڈنگ کے آغاز کے ساتھ ہی مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آگئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,913.32 پوائنٹس (تقریباً 1.12 فیصد) کی تنزلی کے بعد 168,565.62 کی سطح پر آ گیا، جس سے سرمایہ کاروں کی دولت کا ایک بڑا حصہ منٹوں میں ڈوب گیا۔
عالمی مندی کے اثرات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یہ گراوٹ تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کارفرما عالمی عوامل انتہائی تشویشناک ہیں:
ایشیا میں ہلچل: ایشیائی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔ جاپان کا ‘نکئی انڈیکس’ تقریباً 4 فیصد اور تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس 3.9 فیصد تک نیچے آ گیا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا خوف: عالمی سطح پر سرمایہ کار ‘اے آئی’ (AI) سے وابستہ شیئرز سے تیزی سے باہر نکل رہے ہیں، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں ضرورت سے زیادہ بڑھ چکی تھیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ: ایران میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جس نے عالمی سطح پر افراطِ زر اور کاروباری لاگت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بانڈز مارکیٹ کا دباؤ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈز مارکیٹ میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ دو سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں مسلسل اضافے کا رجحان (جو اب 4.1782 فیصد پر ہے) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب اسٹاک مارکیٹ جیسے پرخطر اثاثوں سے نکل کر محفوظ منافع کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
اس وقت مارکیٹ کے شرکاء انتہائی محتاط ہیں، اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک مشرقِ وسطیٰ میں حالات معمول پر نہیں آتے، تب تک اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

