Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر

      انویڈیا کی تاریخ کی بڑی ڈیل: آرٹیفیشل انٹیلی جنس پلیٹ فارم ’ہگنگ فیس‘12.9 ارب ڈالر میں خریدلیا

      واٹس ایپ کا سکیورٹی سسٹم اپ ڈیٹ: نئے فیچر متعارف، نامعلوم کالرز کا پتہ بھی چل سکے گا

      بچوں کو آن لائن لت لگانے پر میٹا کا امریکی ریاستوں سے عدالت سےباہر معاہدہ ، 18 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرے گی

      بچوں کی آن لائن لت کا مقدمہ: انسٹا گرام چیف ایڈم موسیری کی امریکی عدالت میں پیشی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ”بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران“ ملک محمد سلمان کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریز: ملک محمد سلمان
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔
    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔
    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہنمائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واہیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔
    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔
    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔
    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔
    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔
    گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔
    عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔
    ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔
    اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔
    ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔
    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔
    بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔
    بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    Related Posts

    جائیداد کا جعلی انتقال کروانے اور موروثی جائیداد ہتھیانے والا اشتہاری گرفتار

    لاہور کورٹ نے مختلف اضلاع کے لیے انسپکشن ججز مقرر کر دئیے

    سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر دوبارہ سرکاری ادارے کو فروخت کیے جانے کا انکشاف

    مقبول خبریں

    لاہور کورٹ نے مختلف اضلاع کے لیے انسپکشن ججز مقرر کر دئیے

    سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر دوبارہ سرکاری ادارے کو فروخت کیے جانے کا انکشاف

    جعلی انتقال کے ذریعے شہری کو جائیداد سے محروم کرنے کے الزام میں پٹواری  گرفتار 

    بلدیاتی انتخابات: امیدواروں کی تعلیمی قابلیت سے متعلق سوشل میڈیا خبر کی تردید

    مریم نواز شریف کا نیپال میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے نقصان پر اظہار افسوس

    بلاگ

    صحت کا نظام یا مفادات کی سیاست؟

    دوبندو واقعہ کے بعد۔۔۔ سوال اب بھی باقی ہیں

    ڈوگ پائین، زمین پر بچھی ہوئی جنت

    ایک سانحہ، کئی قاتل

    ”کرپشن الزامات،خفیہ رپورٹس اور محکمانہ ریکارڈ؛ آئی جی پنجاب کے حکم پر سب بدل سکتا ہے لیکن ؟“

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.