مٹیاری رپورٹ عامر علی انڑ
محکمہ صحت مٹیاری میں سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر دوبارہ سرکاری ادارے کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مین اسٹور سے سرکاری ادویات جاری کیے جانے کی رپورٹ بھی فلیگ نیوز نے حاصل کرلی ہے ذرائع کے مطابق آر ایچ سی کھیبر اور آر ایچ سی اڈیرو لال اسٹیشن کو پی پی ایچ آئی میں ضم کیے جانے کے بعد وہاں موجود بچ جانے والی سرکاری ادویات محکمہ صحت کے پاس منتقل ہوئیں، جنہیں مبینہ طور پر دوبارہ سرکاری ادارے کو فروخت کیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی ایچ او مٹیاری ڈاکٹر زاہد صدر کی جانب سے ڈی ایچ کیو مٹیاری کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرید میمن کے ذریعے مذکورہ ادویات کی مبینہ خریداری کا اقدام کیا گیا، جبکہ سرکاری ادویات کی خریداری کے لیے تقریباً 30 لاکھ روپے کا بل بھی بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اسٹاک میں موجود ادویات کو دوبارہ سرکاری خزانے سے خریدنے کے مبینہ اقدام سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ معاملے میں مبینہ طور پر مشکوک یا جعلی بلوں کے ذریعے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
مین اسٹور سے ادویات جاری کیے جانے سے متعلق رپورٹ بھی حاصل کرلی ہے، جس میں ادویات کے اجرا اور ریکارڈ سے متعلق اہم تفصیلات موجود ہیں۔ محکمہ صحت مٹیاری میں سرکاری ادویات کی مبینہ خرید و فروخت کے معاملے پر سماجی حلقوں نے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادویات کی اصل مقدار، اسٹاک رجسٹر، اجرا کے ریکارڈ، بلوں اور ادائیگیوں کا مکمل آڈٹ کیا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے


