واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طبی معائنے کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ 79 سالہ صدر "بہترین صحت” میں ہیں اور اپنی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے معالج ڈاکٹر شان بارابیلا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز ‘والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر’ میں کیے گئے معائنے میں صدر کے قلبی، تنفسی اور اعصابی افعال انتہائی تسلی بخش پائے گئے ہیں۔ تین علمی صلاحیتوں (Cognitive) کے ٹیسٹ میں انہوں نے 30/30 اسکور حاصل کیا۔میمو میں 2025 کے قتل کی کوشش سے ان کے دائیں کان پر زخم کے نشانات بھی درج کیے گئے تھے، جس کی سماعت مکمل طور پر برقرار تھی۔
صدر ٹرمپ نے سی ٹی اسکین، دل کی امیجنگ، کینسر کی اسکریننگ سمیت 22 ماہرین کے زیرِ نگرانی دیگر حفاظتی طبی ٹیسٹ کروائے۔ ان کا دل اپنی عمر سے 14 سال چھوٹے شخص کی طرح کام کررہاہے، رپورٹ میں صدر کا وزن 238 پاؤنڈ بتایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں متوازن غذا اور ورزش پر مبنی نئی ہدایات دی ہیں تاکہ وزن کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ شراب اور تمباکو سے تاحیات پرہیز کرنے والے، ٹرمپ کو "کمانڈر انچیف کے تمام فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل طور پر فٹ” قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
صدر ٹرمپ کا 13 ماہ میں تیسرا طبی معائنہ، ماہرین تشویش میں مبتلا: وائٹ ہاؤس کی خاموشی پر سوالات
رپورٹ میں ہاتھوں پر موجود نیل کے نشانات کو "ایسپرین کے استعمال اور کثرتِ مصافحہ” کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹانگوں میں معمولی سوجن کی تشخیص ہوئی ہے جسے گزشتہ سال کے مقابلے میں "بہتر” بتایا گیا ہے۔معائنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ "میرا 6 ماہ کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا ہے اور سب کچھ بالکل ٹھیک یعنی ‘پرفیکٹ’ رہا ہے۔”
"President Trump remains in excellent health." pic.twitter.com/2VRiDJvINO
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 30, 2026
صدر ٹرمپ، جو اگلے ماہ 80 برس کے ہو جائیں گے، اکثر اپنی صحت اور توانمائی کا موازنہ اپنے پیشرو جو بائیڈن سے کرتے رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے میں ان کی ٹانگوں کی سوجن اور ہاتھوں پر نیل کے نشانات کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے عوامی حلقوں اور میڈیا میں بحث جاری تھی۔ ڈاکٹروں کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ رپورٹ انہی خدشات کو دور کرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی قانون کے تحت صدر کے لیے طبی معائنے کے نتائج عوام کے سامنے لانا لازمی نہیں، لیکن ماضی کی روایت کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس بار بھی صحت کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

